فرسٹ ہا سیکنڈ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۴
یہ بات بظاہر سادہ سی ہے مگر وہ بے حد اہم ہے۔ آج انسان کے پاس صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا کلام نہیں ہے بلکہ دوسرے انبیاء کا کلام بھی موجود ہے۔ مثلاً تورات اور انجیل میں بہت سے نبیوں کے کلام درج ہیں۔ مگر ان کتابوں کے بارہ میں نہیں کہا جا سکتا کہ جس گھر میں یہ کتابیں موجود ہوں، اس گھر میں انبیاء ربات کرتے ہوئے موجود ہیں، جب کہ پیغمبر اسلام کے بارہ میں یہ بات بالکل لفظی طور پر درست ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے انبیاء کا جو کلام آج مذہبی کتابوں میں موجود ہے، وہ معتبر نہیں ہے۔ ان میں تحریف، ملاوٹ اور نقل کے نتیجہ میں کثرت سے تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔ اس بنا پر بظاہر اگر چہ پیغمبر کا کلام موجود ہے، مگر وہ اس صورت میں نہیں ہے کہ ان پر اعتبار اور اعتماد کیا جا سکے۔ جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ سراسر مختلف ہے۔ آپ کا کلام پوری طرح پیغمبر کا کلام ہے، آپ کے کلام کی جمع و تدوین میں اتنی زیادہ محنت اور احتیاط کی گئی ہے اور اس کی صحت نقل میں اتنا زیادہ اہتمام کیا گیا ہے کہ آج جو "مجموعہ حدیث" ہمارے پاس موجود ہے، اس کی بابت پورے اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ پیغمبر کا کلام ہے۔
اس طرح پیغمبر اسلام گویا ابدی طور پر ہمارے درمیان موجود ہیں۔ وہ ان احادیث کے ذریعہ مسلسل ہم سے ہم کلام ہیں۔ وہ ہم کو ہدایت دے رہے ہیں۔ وہ ہر موقع پر ہماری رہنمائی کر رہے ہیں۔ وہ ہر تاریکی میں ہم کو روشنی دکھا رہے ہیں۔
مگر یہ متکلم رسول صرف اس شخص کے لیے ہے جو اپنے اندر سننے والا کان رکھتا ہو جس آدمی کے پاس سننے والے کان نہ ہوں ، اس کے گھر میں متکلم رسول موجود ہو گا، مگر وہ اس کی آواز نہیں سنے گا۔ وہ اسی طرح اندھا بہرا بنا رہے گا جس طرح پیغمبر کے زمانہ میں بہت سے لوگ اس کی بات کو سننے اور سمجھنے کے لیے اندھے اور بہرے بنے رہے۔ وہ انسان بھی کیسا محروم انسان ہے جس کے پاس نبی متکلم موجود ہو مگر وہ اپنے آپ کو نبی متکلم کا مخاطب نہ بنا سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues