Al-Risala · March 1991 · page 5

حکیمانہ تدبیر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۵

حکیمانہ تدبیر

مسٹر یوسف خان مئی ۱۹۹۰ء میں لندن میں تھے۔ انھوں نے بتایا کہ سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف مسلمانوں نے جو ایجی ٹیشن چلایا اس کو عام طور پر انگریزوں نے بہت ناپسند کیا۔ انگلینڈ میں شاید کوئی ایک بھی انگریز نہیں جو مسلمانوں کے اس ایجی ٹیشن کی وجہ سے ان کا ہم خیال ہو گیا ہو۔ دوسری طرف اسی انگلینڈ (لندن) میں اس کے بالکل برعکس مثال موجود ہے۔ انھوں نے بتایا کہ لندن کے ٹی وی ادارہ نے ایک خصوصی پروگرام بنایا۔ انھوں نے شہر کے باہر پرسکون مقام پر ایک مکان کرایہ پر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے آٹھ آدمی منتخب کیے۔ ان میں چار مسلم نوجوان تھے جن کا کہنا تھا کہ سلمان رشدی کی کتاب پر بین لگنا چاہیے اور چار غیر مسلم (عیسائی) تھے جو یہ کہتے تھے کہ یہ آزادی تحریر کا معاملہ ہے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کا ایجی ٹیشن کرنا درست نہیں۔ ان چار غیر مسلموں میں ایک عیسائی کتب فروش بھی تھا جو اپنی دکان پر سلمان رشدی کی کتاب (دی سیٹینک ورسز) کا اسٹاک رکھے ہوئے تھا اور دکان کی بیرونی الماری میں اس کتاب کو ڈسپلے کیے ہوئے تھا۔ مسلمانوں کے مطالبہ کے باوجود وہ اس کتاب کو الماری سے ہٹانے کے لیے تیار نہیں تھا۔

ان آٹھ آدمیوں کو مذکورہ مکان میں چار دن تک رکھا گیا۔ وہ وہاں ایک ساتھ کھانا کھاتے اور سنجیدہ انداز میں سلمان رشدی اور اس کی کتاب کے مسئلہ پر گفتگو کرتے۔ ان کے ساتھ ٹی وی کا عملہ بھی موجود تھا جو ان کی تمام سرگرمیوں کو برابر ریکارڈ کرتا رہا۔

آخری دن جب ان سے انٹرویو لیا گیا تو چاروں مخالفین اس بات پر متفق ہو چکے تھے کہ یہ کتاب نہیں چھپنا چاہیے تھی۔ حتیٰ کہ کتب فروش نے صاف لفظوں میں یہ بات کہی کہ میں نے یہ طے کیا ہے کہ میں مسلمانوں کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے اپنی دکان پر سلمان رشدی کی کتاب کی نمائش نہ کروں : I have decided not to dispaly The Satanic Verses in my shop in deference to the sentiment of the Muslims. اس دنیا میں ناکامی اور کامیابی دونوں زیادہ تر طریقہ کار کا معاملہ ہے۔ یہاں غلط طریق کار اختیار کرنے والا آدمی ناکام ہوتا ہے اور صحیح طریق کار اختیار کرنے والا آدمی کامیاب۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page