خاموش تدبیر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۶
خاموش تدبیر
الطاف حسین حالی (۱۹۱۴-۱۸۳۷) اصلاحی شاعری کو پسند کرتے تھے ۔ اس اعتبار سے انھوں نے قدیم اُردو شاعری کا جائزہ لیا تو وہ انہیں نہایت بے معنی نظر آئی ۔ انھوں نے پایا کہ قدیم اُردو شاعری میں مبالغہ ہے، حسن و عشقی کی داستان ہے۔ فرضی خیال آرائی ہے۔ حالی نے اس شاعری پر سخت تنقید کی اور اس کے بجائے بامقصد شاعری کی وکالت کی۔
یہ تنقید ان لوگوں کو بہت ناگوار ئی جو قدیم اُردو شاعری کو اپنے لیے فخر کا سرمایہ بنائے ہوئے تھے۔ ان کو برداشت نہیں ہوا کہ ایک شخص ان کے پر فخر اثاثہ کو بے قیمت بتائے۔ چنانچہ وہ حالی کے دشمن ہو گئے۔ ان لوگوں نے حالی کے خلاف نہایت غیر سنجیدہ قسم کے مخالفانہ مضامین چھاپنے شروع کیے ۔ حالی نے اس لغو طوفان کے جواب میں خاموشی اختیار کر لی۔ اس پر اودھ پنچ (لکھنؤ) نے ایک فاتحانہ نظم شائع کی۔ اس کا ایک شعر یہ تھا:
اب ر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے میدان پانی پت کی طرح پامال ہے مخالفت برائے مخالفت کا یہ طوفان مکمل طور پر ایک طنز تھا۔ اس لیے وہ بہت زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتا تھا۔ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد مخالفین خاموش ہو گئے۔ حالی سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے مخالفین کیسے چپ ہو گئے ۔ وہ تو بظاہر چپ ہو ہونے والے نظر نہیں آتے تھے۔ حالی نے اس کے جواب میں ایک نظم لکھی۔ اس کا ایک شعر یہ تھا:
کیا پوچھتے ہو کیوں کر سب نکتہ چیں ہوئے چپ سب کچھ کہا انھوں نے پر ہم نے دم نہ مارا کوئی شخص سنجیدہ اختلاف اور علمی تنقید کرے تو وہ بلاشبہ قابل غور ہوتی ہے ۔ اگر وہ درست ہے تو اس کو مان لینا چاہیے اور اگر اس کے اند ر استدلالی نقص ہے تو دلائل کے ساتھ اس کی غلطی کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ مگر جو مخالفت برائے مخالفت ہو، جو علمیت اور سنجیدگی سے خالی ہو، جس کی بنیاد حقائق کے بجائے الزام تراشی اور عیب جوئی پر ہو، ایسی مخالفت کا بہترین جواب خاموشی ہے ۔ ایسے لوگوں کا جواب دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص چیختے ہوئے گدھے کے سامنے اغضض من صوتك (لقمان ۱۹) کا وعظ کہنے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues