انعام کی خوشی
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۸
انعام کی خوشی
۱۶ اکتوبر 1990 کے اخبارات یہ خبر لائے کہ 1990 کے نوبیل امن انعام (Nobel peace prize) کے لیے ناروے کی کمیٹی نے سوویت یونین کے صدر میخائیل گورباچیف کا نام چنا ہے۔ یہ انعام ان کو دینا اس لیے طے کیا گیا ہے کہ انھوں نے بین الاقوامی امن کے عمل میں رہنما یا نہ کردار ادا کیا : for his leading role in the international peace process. یہ با عزت انعام ان کو اوسلو میں، 10 دسمبر 1990 کی ایک خصوصی تقریب میں دیا جائے گا۔ اس انعام میں تمغہ اور سرٹیفکٹ کے علاوہ سات لاکھ ڈالر (710,000 $) کی رقم شامل ہوگی۔
60 سالہ روسی لیڈر کو یہ خبر ناروے کے روسی سفیر (Dagfinn Stenseth) نے کریملن میں ان سے ملاقات کر کے انھیں پہنچائی۔ اس کے جلد ہی بعد ملکی اور غیر ملکی اخبار نویس کر یملن پہنچے اور گورباچیف سے ان کے تاثرات پوچھے ۔ انگریزی رپورٹ کے مطابق، وہ زیادہ نہ بول سکے ۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کے لمحات میں آدمی کے الفاظ گم ہو جاتے ہیں۔ اس کو سن کر میں بے حد متاثر ہوا ہوں : Words fail one at such moments. I am moved. اسی دوران دوسرا واقعہ ڈاکٹر منڈیلا (Nelson Mandela) کے ساتھ ہوا جو جنوبی افریقہ کی سیاہ فام آبادی کے لیڈر ہیں۔ ان کو ہندوستان بلا کر بھارت رتن کا اعلیٰ ترین انعام اور پچاس لاکھ ڈالر (۵ ملین ڈالر) کا چیک دیا گیا، حکومت کی طرف سے ان کا شاہانہ استقبال کیا گیا۔ ۱۷ اکتوبر 1990 کو جب وہ ہندوستان سے واپس جا رہے تھے تو انھوں نے (ہندوستان ٹائمز ۱۸ اکتوبر 1990) کہا کہ ہندوستان آنا میری زندگی کا بہت یادگار لمحہ تھا۔ اس نے میری روح کے اندر تموج پیدا کر دیا :
It has thrilled me all the way. (p. 3)
دنیا کا انعام، آخرت کے انعامات کے مقابلے میں ، بہت کم ہے۔ پھر دنیا کا معمولی انعام جب آدمی کو اتنے سرور میں مبتلا کر دیتا ہے تو آخرت کے عظیم تر انعام کو پا کر آدمی کے اندر کتنا زیادہ سرور پیدا ہوگا۔ آدمی اگر اس حقیقت کو جانے تو اس کی پوری زندگی بدل جائے۔ وہ دنیا کے بجائے آخرت کے لیے کام کرنے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues