فرض کی ادائیگی
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۹
فرض کی ادائیگی
ظلِ عباس عباسی صاحب (پیدائش ۱۴۳ھ) ایک صحافی ہیں۔ وہ مختلف اخبارات میں کام کرتے رہے ہیں۔ ۱۹۸۲ء سے وہ اخبار ملاپ (دہلی) سے وابستہ ہیں۔ ۱۵ اگست ۱۹۹۰ کی ملاقات میں انھوں نے ایک واقعہ بتایا جس میں بہت بڑا سبق ہے۔
ظلِ عباس عباسی صاحب جب ملاپ کے دفتر میں آئے تو ان کے لیے جمعہ کی نماز کا مسئلہ پیدا ہوا۔ وہ اخبار کے مینجر مسٹر پریم ناتھ چوپڑا (۵۸ سال) کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ میں جمعہ کے دن نماز کے لیے مسجد جاؤں گا۔ اس میں جتنی دیر لگے گی، اتنی دیر مزید کام کر کے میں اپنا چھ گھنٹہ کارکردگی کا وقت پورا کر دوں گا۔ مسٹر چوپڑا نے انھیں فوراً اجازت دے دی۔
ظلِ عباس عباسی صاحب نہایت پابندی کے ساتھ اپنے قول پر عمل کرتے رہے۔ وہ ہر جمعہ کو نماز کے وقت آفس سے چلے جاتے اور جتنی دیر انھیں لگتی، اتنی دیر مزید کام کر کے اپنے اوقات کارکردگی کو پورا کر دیتے۔
ہفتے اور مہینے گزرتے رہے۔ یہاں تک کہ رمضان کا زمانہ آگیا، ابھی رمضان کا مہینہ شروع ہونے کو چند دن باقی تھے کہ مسٹر پریم ناتھ چوپڑا جناب ظلِ عباس عباسی صاحب کے کمرہ میں آئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے روزے شروع ہونے والے ہیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ آپ روزہ رکھتے ہیں۔ اب آپ اپنے اوقات تبدیل کر کے اس طرح کر لیں کہ آپ کو کوئی زحمت نہ ہو۔ ہماری طرف سے اجازت ہے کہ آپ جب چاہے آئیں اور جب چاہے جائیں۔ رمضان کے مہینہ بھر آپ کے اوپر دفتری اوقات کی پابندی لازم نہ ہوگی۔
جس طرح نماز کی ادائیگی ایک فریضہ ہے، اسی طرح یہ بھی ایک فریضہ ہے کہ آدمی اپنی ڈیوٹی کو پوری طرح ادا کرے۔ اگر نماز پڑھنے والے اس حقیقت کو جانیں اور اپنے اندر دونوں صفات پیدا کر لیں تو نماز ان کے لیے بیک وقت دو عظیم فائدوں کا ذریعہ بن جائے گی۔ ایک طرف وہ ان کے اندر روحانی صفت پیدا کر کے انھیں خدا سے قریب کرے گی۔ دوسری طرف ان کے اندر وہ اخلاقی صفت پیدا کرے گی جس کے ذریعہ وہ بندوں کی نظر میں محبوب و مقبول بن جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues