Al-Risala · March 1991 · page 12

صبر کا پھل

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۱۲

صبر کا پھل

نسیم علی خاں صاحب (پیدائش ۱۹۵۹) گیارہ سال سے بمبئی میں رہتے ہیں۔ ۲۳ اگست ۱۹۹۰ء کی ملاقات میں انھوں نے ایک واقعہ بتایا جو بہت سبق آموز ہے۔

بمبئی میں سیوری کر اس روڈ کے علاقہ میں ’’مقدس مسجد‘‘ کے نام سے ایک مسجد ہے۔ یہاں پچھلے ۲۵ سال سے تبلیغی جماعت کا کام ہورہا تھا۔ تین سال پہلے کی بات ہے، ایک روز سنی (بریلوی) مسلمانوں کی ایک جماعت اچانک مسجد میں آگئی۔ یہ جمعہ کا دن تھا، وہ کھڑے ہوکر سلام پڑھنے لگے۔ دوسرے مسلمانوں نے انھیں روکا۔ اس پر بات بڑھی، اور پولیس بلانی پڑی۔

آخر کار بریلوی حضرات کے مطالبہ پر یہ طے ہوا کہ ہم سلام نہیں پڑھیں گے مگر تبلیغی جماعت والے بھی یہاں اپنی کتاب پڑھنا بند کردیں۔ اس پر تبلیغ والے راضی ہوگئے ۔

اب مسجد میں تبلیغ والوں کی کتاب کا پڑھنا بند ہوگیا۔ تاہم تبلیغ والوں نے اپنا کام بند نہیں کیا۔ اب وہ مسجد کے دروازہ پر اپنا پروگرام کرنے لگے۔ تبلیغ والوں نے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔ البتہ اخلاقی تدبیریں کرتے رہے۔ مثلاً ایک بار انھوں نے سیوری کے سنی مسلمانوں کے سرکردہ افراد کو کھانے پر بلایا۔ ان کے لیے عمدہ طریقہ پر دعوت کا انتظام کیا، وغیرہ۔

یہ سلسلہ تقریباً ڈیڑھ سال تک جاری رہا۔ تبلیغ والے صبر کے ساتھ مسجد کے باہر اپنا پروگرام کرتے رہے۔ اسی کے ساتھ خوش اخلاقی اور خوش تدبیری کے ذریعہ ان کے دلوں کو نرم بھی کرتے رہے۔ آخر کار تمام مخالف لوگ نرم پڑ گئے، یہاں تک کہ انھوں نے تبلیغ والوں کو اجازت دے دی کہ وہ مسجد کے اندر آکر اپنا پروگرام کر سکتے ہیں۔

یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا طریقہ ہے۔ اسی کے ذریعہ تمام مسئلے حل ہوسکتے ہیں، خواہ وہ مسئلہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان پیدا ہوا ہو یا مسلمان اور ہندو کے درمیان۔ موجودہ دنیا آزادی کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو اپنی مرضی کے مطابق عمل کرنے کا اختیار ہے۔ اس لیے یہاں ایک دوسرے کے درمیان اختلاف کا پیش آنا عین فطری ہے، اس کا حل ٹکراؤ میں نہیں۔ اس کا واحد حل وہی ہے جس کو ’’حکمت اعراض‘‘ کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page