Al-Risala · March 1991 · page 13

تبدیلی مذہب

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۱۳

تبدیلی مذہب

ٹائمس آف انڈیا (۱۱ اگست ۱۹۹۰) میں صفحہ ۹ پر مسٹر آلوک رائے کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے ________ صرف متعصب لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ تبدیلی مذہب کا سبب جبر و تشدد ہوتا ہے : Only bigots feel that conversions follow invasions. مضمون نگار لکھتے ہیں کہ ٹیپو سلطان فلم کے بارہ میں وشو ہندو پریشد نے پر شور مانگ کی تھی کہ اس کی نمائش پر پابندی لگادی جائے۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ ٹیپو سلطان نے اٹھارویں صدی کے مالابار میں بہت سے ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بنایا تھا۔

مضمون نگار نے اس مانگ کا مذاق اڑایا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اگر بحث کی خاطر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ ٹیپو سلطان نے مالابار کے ہندوؤں کو مسلمان بنایا تھا تو اس جبر و تشدد کے خلاف آواز سب سے پہلے مالابار سے بلند ہونی چاہیے ، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں کے مسلمان یا ہندو کسی نے بھی اس قسم کی آواز نہیں اٹھائی۔

اسی طرح مضمون نگار نے میناکشی پورم کا ذکر کیا ہے۔ میناکشی پورم میں جب کچھ ہریجنوں نے اسلام قبول کیا تو کٹر ہندوؤں نے کہا کہ ان ہریجنوں کو پیسہ دے کر اسلام میں داخل کیا گیا ہے۔ مضمون نگار کہتے ہیں کہ بالفرض اگر یہ دعویٰ صحیح ہو تو ان ہندوؤں کے لیے نہایت آسان تدبیر یہ ہے کہ وہ ان مسلمان ہونے والے ہریجنوں کو کچھ زیادہ رقم دے کر دوبارہ انھیں ہندو بنالیں :

Concerned Hindus should outbid the converters.

مضمون نگار نے اس بات کی وکالت کی ہے کہ آدمی کو مذہبی عقیدہ کی مکمل آزادی حاصل رہنا چاہیے ۔ آدمی چاہے ایک مذہب پر رہے ، چاہے اس کو بدل کر دوسرا مذہب اختیار کرلے۔ لوگوں کو ایسا کرنے کا پورا حق ہے : (And they have a right to do so.)

مضمون نگار کی یہ بات بالکل درست ہے ۔ اگر ہم یہ کریڈٹ لینا چاہتے ہیں کہ انڈیا میں ہم نے ڈیمو کریسی قائم کی ہے تو ہم کو تبدیلی مذہب کی اجازت بھی ضرور دینی ہوگی ۔ ورنہ ڈیمو کریسی کا دعویٰ جھوٹا ہو کر رہ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page