Al-Risala · March 1991 · page 14

امن اور ترقی کی طرف

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۱۴

امن اور ترقی کی طرف

19 نومبر سے لے کر 10 دسمبر 1990 تک میں ایک بیرونی سفر پر تھا۔ اس دوران میرا قیام امریکہ اور جاپان میں رہا۔ امریکہ میں ایسے مسلمان بڑی تعداد میں ہیں جو ہندوستان، پاکستان وغیرہ ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور اب امریکہ کے شہری بن کر وہاں پُر عافیت زندگی گزار رہے ہیں۔

سفر کے آخری دنوں میں امریکی مسلمانوں کی ایک خصوصی میٹنگ ہوئی۔ اس میں میں بھی شریک تھا۔ اس میٹنگ میں ہندوستانی مسلمانوں کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس کا انداز تقریباً وہی تھا جو عام طور پر ہند و پاک کے مسلم لیڈروں کے یہاں پایا جاتا ہے۔ ہر ایک نے اس معاملہ میں مسلمانوں کی مظلومیت پر غم کا اظہار کیا، اور ہندوؤں کو ظالم بتا کر ان کے خلاف پرجوش احتجاجی تقریر کی۔ حتیٰ کہ کچھ لوگوں نے یہ تجویز پیش کی کہ ہندوستانی مسلمانوں کو جہاد کے ذریعہ اپنے مسائل کو حل کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ یہ طریقہ بظاہر درست نظر آ سکتا ہے، مگر وہ مسئلہ کا حل نہیں۔ اس طریقہ کا مطلب مسئلہ کو خالص اصولی اور قانونی اعتبار سے دیکھنا ہے۔ عام طور پر لوگ اظہارِ خیال کے وقت اسی طریقہ کو اختیار کرتے ہیں۔ آپ لوگوں کا انداز بھی اسی قسم کا ہے۔ مگر مسئلہ کے حل کے اعتبار سے یہ طریقہ بالکل کار آمدنہیں۔ اپنی ذات پر آپ اصولی معیار کا استعمال کر سکتے ہیں۔ مگر جب معاملہ دوسروں کا ہو تو عملی نقطہ نظر اختیار کرنا ہی نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔

میں نے کہا کہ اصولی جائزہ میں زیادہ سے زیادہ جو چیز آپ کے حصہ میں آتی ہے، وہ فریقِ ثانی کے خلاف لفظی مذمت یا لفظی احتجاج ہے۔ جہاں تک اصل صورت حال کا تعلق ہے، وہ بدستور اپنی جگہ باقی رہتی ہے۔ اس طریقہ کا اول و آخر حاصل صرف اپنے دل کی بھڑاس نکالنا ہے نہ کہ فی الواقع اختلافی مسئلہ کو ختم کرنا۔

دوسرا طریقہ وہ ہے جس کو عملی نقطہ نظر کہا جا سکتا ہے۔ یعنی نظری انصاف کے پہلو کو زیر بحث لائے بغیر یہ دیکھنا کہ مسئلہ کا واقعی حل کیا ہے۔ جو ناپسندیدہ صورت حال موجود ہے، اس کا عملی خاتمہ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ یہی دوسرا طریقہ یا تدبیر ہے جس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ معاہدہ (628ء) کے ضمن میں اختیار فرمایا۔ اس کو ہم ایک لفظ میں، حدیبیہ پرنسپل (Hudaibiya principle)

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page