Al-Risala · March 1991 · page 16

اقلیتی فریق کا ایڈجسٹمنٹ

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۱۶

امریکہ اور جاپان میں جو کچھ میں نے دیکھا، اور دونوں ملکوں کے بارے میں جو کچھ پڑھا، اس کے مطابق، میری رائے ہے کہ امریکہ کی تاریخ میں اقلیتی فریق کے ایڈجسٹمنٹ کی مثال پائی جاتی ہے۔ اور جاپان اکثریتی فریق کے ایڈجسٹمنٹ کی ایک کامیاب مثال ہے۔

اقلیتی فریق کا ایڈجسٹمنٹ

امریکہ کے اقلیتی فریق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو عام طور پر مہاجر (immigrants) کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو مختلف ملکوں سے امریکہ آئے اور پھر یہاں کے شہری بن کر یہاں رہنے لگے۔ اس سفر کے دوران اس طبقہ کے بہت سے لوگوں سے میری ملاقات ہوئی۔ ان میں مختلف ملکوں کے لوگ بھی تھے اور مختلف مذہبوں کے لوگ بھی۔

ان مہاجرین کے لئے امریکہ میں مختلف مسائل تھے۔ مگر ان مسائل میں انھوں نے یک طرفہ طور پر امریکی نظام سے ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کیا۔ مثال کے طور پر ایک ہندو جب ہندوستان میں تھا تو وہ ”بھارت“ کو اپنا دیوتا سمجھتا تھا۔ اس کی تمام وفاداریاں بھارت کی سرزمین سے وابستہ تھیں۔ وہ فخر کے ساتھ وطنی تقدس کا وہ ترانہ گاتا تھا جس کو بندے ماترم کہا جاتا ہے۔ مگر امریکہ میں جب اس نے وہاں کی شہریت لینا چاہا تو اس کو معلوم ہوا کہ اس کا بھارتی عقیدہ امریکی نظریہ سے ٹکرا رہا ہے۔ اس کو امریکی شہریت صرف اس وقت مل سکتی ہے جب کہ وہ بھارت سے اپنی وفاداری کو مکمل طور پر اور مطلق طور پر ختم کر دے۔ وہ اپنی تمام وفاداریاں صرف امریکہ (U.S.A) کے ساتھ وابستہ کرے۔ یہاں اس نے امریکی نظام سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ اپنے اصول کو بدلے۔ اس کے بجائے اس نے خود اپنے عقیدہ پر نظرثانی کی۔ امریکی دستور کے مطابق اس نے امریکہ کی غیر مشروط وفاداری کا حلف (oath of allegiance) لیا اور اس طرح وہ امریکہ کا شہری بن گیا۔

اسی طرح مسلمان کے عقیدہ کے مطابق، ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے جنگ کرنا حرام ہے۔ مسلمان کا یہ عقیدہ امریکہ کے قانون شہریت سے ٹکراتا ہے۔ کیوں کہ امریکہ کے دستور کے مطابق، ہر امریکی شہری پر لازم ہے کہ جب کبھی کسی دوسرے ملک سے امریکہ کی جنگ پیش آئے تو کسی تحفظ یا استثناء کے بغیر وہ امریکہ کی طرف سے اس غیر ملک کے خلاف جنگ کرے امریکہ کے زمانہ قیام میں میری ملاقات ایک مسلمان فوجی سے ہوئی ۔ اس نے کہا کہ مجھے خلیج عرب

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page