Oath of Allegiance
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۱۷
میں جانے والی امریکی فوج میں بھیجا جا رہا ہے۔ امریکہ اگر عراق کے خلاف جنگ چھیڑتا ہے تو مجھے ایک مسلم فوج کے خلاف لڑنا ہوگا جو کہ اسلام میں حرام ہے۔ ایسی حالت میں مجھے کیا کرنا چاہئے۔ امریکہ میں اس وقت تقریباً پانچ ملین مہاجر مسلمان آباد ہیں۔ ان مسلمانوں نے وفاداری کا مقررہ حلف نامہ دے کر امریکہ کی شہریت کو اختیار کیا ہے۔ انھوں نے امریکہ سے یہ مانگ نہیں کی کہ وہ اپنے قانون کو بدل کر اس میں یہ استثنائی دفعہ شامل کرے کہ مسلمان مہاجر اس وقت جنگ میں شرکت کے پابند نہ ہوں گے جب کہ امریکہ کسی مسلم ملک یا مسلم قوم سے برسرجنگ ہو جائے ۔ تمام امریکی مسلمانوں نے بلا بحث امریکی نظام کو قبول کرتے ہوئے اس کی وفاداری کا حلف لیا، اور خود امریکہ کی شرط پر نہ کہ اپنی شرط پر ، امریکہ کے شہری بن گئے ــــــــــ۔ امریکہ کے مہاجرین نے امریکہ میں جو کامیابی حاصل کی ہے ، اس کو انھوں نے ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ حاصل کیا ہے نہ کہ ٹکراؤ کے ذریعہ ۔
اب ایک اور مثال لیجئے۔ امریکہ میں یہ قانون ہے کہ ایک شخص اگر اپنے بعد جائداد چھوڑ کر مرے تو اس کی جائداد کا ۴۰ فی صد حصہ گورنمنٹ کے خزانہ میں چلا جائے گا۔ اس کے بعد بقیہ ترکہ کا بیشتر حصہ متوفی کی رفیقہ حیات (spouse) کو ملے گا۔ اور نسبتاً بہت تھوڑا حصہ متوفی کی اولاد کے حصہ میں جائے گا۔ امریکہ کا یہ قانون وراثت واضح طور پر ہندوؤں، مسلمانوں اور اسی طرح دوسری ایشیائی قوموں کے اپنے مذہب یا کم از کم ان کی ذاتی پسند سے ٹکراتا ہے۔ مگر یہاں بھی مہاجر لوگوں نے امریکہ سے یہ مانگ نہیں کی کہ وہ اپنے قانون وراثت میں ترمیم کرے اور اس معاملہ میں اس قانونی اصول کو رائج کرے جس کو ہندوستان میں ”پرسنل لا“ کہا جاتا ہے ، تاکہ مہاجر لوگوں کو یہ قانونی حق مل جائے کہ ان کی جائداد ان کے اپنے مذہب یا اپنے خاندانی رواج کے مطابق تقسیم کی جاسکے۔
Oath of Allegiance
I hereby declare, on oath, that I absolutely and entirely renounce and abjure all allegiance and fidelity to any foreign prince, potentate, state or sovereignty, of whom or which I have heretofore been a subject or citizen; that I will support and defend the Constitution and Laws of the United States of America against all enemies, foreign and domestic; that I will bear true faith and allegiance to the same; that I will bear arms on behalf of the United States when required by the Law; that I will perform noncombatant service in the armed forces of the United States when required by the Law; that I will perform work of national impor- tance under civilian direction when required by the Law; and that I take this obligation freely without any mental reservation or purpose of evasion: So help me God.
‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues