Oath of Allegiance
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۱۸
یہاں کے زمانہ قیام میں میں امریکی مسلمانوں کی ایک میٹنگ میں شریک ہوا ۔ اس میٹنگ کا خاص موضوع وراثت کی تقسیم کے اسی مسئلہ پر غور کرنا تھا۔ وہاں کسی بھی شخص نے یہ تجویز پیش نہیں کی کہ امریکہ کا یہ قانون مداخلت فی الدین ہے۔ اس لئے اس پر مسلمانوں کی طرف سے سخت احتجاجی بیان شائع کیا جائے اور ملک کے تمام حصوں میں اس کے خلاف جلسے اور جلوس کے مظا ہرے کئے جائیں، تاکہ حکومت پر دباؤ پڑے اور وہ موجودہ قانون وراثت میں ترمیم پر مجبور ہو جائے ۔ میں نے دیکھا کہ ہر آدمی اس قسم کے بیانوں اور مظاہروں کو خارج از بحث قرار دیتے ہوئے صرف یہ بات کر رہا ہے کہ موجودہ قانون کے ہوتے ہوئے ہم اپنے مسئلہ کو کس طرح حل کر سکتے ہیں۔ بیرون ملکوں میں مقیم حضرات ہر جگہ ایڈجسٹمنٹ کی سیاست چلا رہے ہیں نہ کہ وہ سیاست جس کو ہندوستان کے سطحی لیڈر دباؤ کی سیاست کا نام دئے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں مجھے معلوم ہوا کہ وہاں کے ہندوؤں اور مسلمانوں نے اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے جو کچھ کیا وہ صرف یہ تھا کہ انہوں نے امریکہ کے ماہرین قانون سے مل کر ان سے مشورہ طلب کیا کہ امریکی قانون سے ٹکرائے بغیر وہ کس طرح اس کے دائرہ میں اپنا مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔
امریکی وکیلوں نے انہیں بتایا کہ امریکہ کے قانونی نظام میں وصیت نامہ (will) کی بے حد اہمیت ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی موت سے پہلے اپنا باقاعدہ وصیت نامہ تحریر کر دے تو امریکہ کے موجودہ قانون کے مطابق، اس کو کسی تبدیلی کے بغیر کل طور پر نافذ کیا جائے گا۔ اس لئے آپ لوگ یہ اہتمام کریں کہ ہر آدمی اپنی موت سے پہلے اپنا وصیت نامہ لکھ کر اس کی رجسٹری کرا دے ۔ وصیت نامہ میں وہ اپنے مذہب یا اپنے خاندانی رواج کے مطابق اپنی جائداد کے بٹوارہ کی اسکیم درج کر دے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو اس کے مرنے کے بعد اس کی اسکیم کو عین اس کی وصیت کے مطابق جاری کیا جائے گا۔ تمام ہندوؤں، تمام مسلمانوں اور تمام دوسرے لوگوں نے امریکی وکیلوں کے اس مشورہ کو بلا بحث مان لیا۔ اس کے مطابق اب وہ امریکہ کے قانونی نظام سے موافقت کر کے اپنی جائداد اور اپنے ترکہ کے مسئلہ کو حل کر رہے ہیں۔ امریکہ کے مہاجر حضرات کا جس جس معاملہ میں بھی امریکہ کے نظام یا وہاں کے قانون سے ٹکراؤ پیش آیا ، اس کو انہوں نے اسی طرح ایڈجسٹمنٹ کرکے حل کیا ہے۔ انھوں نے ہمیشہ اس سے پر ہیز کیا کہ ایسا کوئی مسئلہ ان کے اور امریکیوں کے درمیان ٹکراؤ کا اشتوبن جائے۔ بیرونی ملکوں کے جو لوگ امریکہ میں جاکر آباد ہوگئے ہیں، ان میں سے کئی لوگوں سے میں نے پوچھا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues