Al-Risala · March 1991 · page 20

Oath of Allegiance

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۲۰

جزیرہ او کیناو ا کو امریکہ کا فوجی اڈہ بنا کر وہاں امریکہ کا قومی جھنڈا لہرادیا گیا۔ وغیرہ وغیرہ اس معاملہ میں جاپان اکثریتی فریق کی حیثیت رکھتا تھا وہ امریکہ کی حیثیت اس کے مقابلہ میں اقلیتی فریق کی تھی۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ جاپان اپنے اوپر امریکہ کی بالادستی کو قبول نہ کرے ۔ وہ اس کے خلاف مذمت اور احتجاج کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دے، وہ امریکہ کے خلاف گوریلا جنگ چھیڑ دے، وغیرہ ۔ مگر جاپانیوں نے اس قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہ معاملہ اگر چہ ان کی قومی غیرت کے سراسر خلاف تھا۔ مگر انھوں نے نظری پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے خالص عملی نقطۂ نظر کو اپنا لیا۔ انھوں نے یہ کیا کہ یک طرفہ طور پر امریکہ کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کر کے ممکن دائرہ میں اپنی زندگی کی تعمیر شروع کر دی ۔

۱۹۱۴۵ میں جب یہ قومی مصیبت پیش آئی تو جاپان کے سابق شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے ریڈیو پر ایک تاریخی تقریر کی۔ ۴ اگست ۱۹۴۵ کی اس تقریر میں جاپان کے قومی لیڈر نے اپنی قوم کو یہ پیغام دیا کہ وہ جذباتی مظاہروں (outbursts of emotions) سے قطعی پرہیز کریں۔ وہ اپنی تمام طاقتوں کو مستقبل کی تعمیر (construction of future) کے محاذ پر لگادیں ۔ وہ اپنے آپ کو غیر ملکی نفرت (antiforeign sentiment) سے بچائیں ۔ جاپان کی تعمیر نو (reconstruction) کے سوا اور کسی اور چیز میں کوئی دل چسپی نہ لیں۔

جاپان کے لیڈر نے اپنی قوم کو اس قسم کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ عزم کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو ایک عظیم امن مہیا کرنے کے لئے ایک ایسی چیز کو برداشت کریں جو ناقابل برداشت ہے، اور اس کو سہیں جو سہی نہیں جاسکتی :

We have resolved to pave the way for a grand peace for all the generations to come by enduring the unendurable and suffering what is unsufferable. Ian Nish, The Story of Japan, p. 192 اس اصول کو اختیار کرنا جاپان کے لئے اپنے آپ کو امریکہ کے ماتحت بنانے کے ہم معنی تھا۔ چنانچہ ابتدائی دور میں جاپان نے ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اپنا مقام کھو دیا۔ پنڈت جواہر لال نہرو ۱۹۴۷ میں ہندستان کے پہلے وزیر اعظم بنے تو انھوں نے اپنی خارجہ پالیسی میں جاپان کو کوئی مقام نہیں دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page