ہندوستان کی مثال
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۲۱
اپنے پورے دور حکومت میں وہ جاپان کو نظر انداز کرتے رہے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک، جاپان ایک وابستہ ملک (aligned nation) بنا ہوا تھا، اور نہرو کے اپنے ذہن کے مطابق کسی ملک کی عظمت اس میں تھی کہ وہ نا وابستہ قوم (non-aligned nation) کی حیثیت رکھتا ہو۔
مگر آج ساری دنیا جانتی ہے کہ جاپان کی اس یک طرفہ پالیسی نے جاپان کو غیر معمولی فائدہ پہنچایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان کو وسیع پیمانے پر ایک وقفہ تعمیر مل گیا۔ اس نے اس وقفہ کو استعمال کرکے اتنی زیادہ اقتصادی ترقی کی کہ جاپان کے اوپر امریکہ کی سیاسی اور فوجی بالا دستی عملاً بے معنی ہو کر رہ گئی۔ آج جاپان خود امریکہ کی دیو پیکر کمپنیوں کو بڑی بڑی قیمت دے کر خرید رہا ہے۔ امریکہ اور جاپان کے درمیان ہر روز ایک درجن فلائٹ آتی ہے اور ہر روز ایک درجن فلائٹ جاتی ہے۔ جاپان نے ساری دنیا میں نمبر ایک اقتصادی طاقت کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ ۱۹۴۵ میں امریکہ نے جاپان پر سیاسی غلبہ حاصل کیا تھا، آج خود امریکہ زیادہ بڑے پیمانے پر جاپان کے اقتصادی غلبہ کے نیچے دبا ہوا ہے۔ جاپان ایک چھوٹا اور بے وسیلہ ملک ہے، اس کے مقابلہ میں ہندوستان بہت بڑا اور باوسیلہ ملک ہے۔ مگر جاپان کے مقابلہ میں آج ہندوستان کی کوئی حیثیت نہیں۔
یہ اقلیتی فریق کے مقابلہ میں اکثریتی فریق کے ایڈ جسٹمنٹ کی مثال ہے۔ اس معاملہ میں امریکہ گویا اقلیتی فریق کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور اس کے مقابلہ میں جاپان کی حیثیت اکثریتی فریق کی تھی۔ جاپان نے نظری پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے عملی پہلو کو اختیار کر لیا اور اپنے اقلیتی حریف سے موافقت کرتے ہوئے ممکن دائرہ میں تعمیر و استحکام کا عمل جاری کر دیا۔ یہ عملی طریقہ اتنا کار آمد تھا کہ جب اس کی تکمیل ہوئی تو جاپان نے عالمی نقشہ پر پہلے سے بھی زیادہ بڑی حیثیت حاصل کر لی۔
ہندوستان کی مثال
ہندوستان میں بھی ظاہری فرق کے ساتھ یہی صورت حال جاری ہے۔ یہاں کا مسئلہ بنیادی طور پر ہندو اور مسلمان کا مسئلہ ہے۔ اس معاملہ میں ہند و فریق کی حیثیت اکثریتی فریق کی ہے۔ اور مسلمان اس کے مقابلہ میں اقلیتی فریق کی حیثیت رکھتا ہے۔
اکثریت اور اقلیت کا جھگڑا پچھلے ۴۵ سال سے مسلسل جاری ہے۔ عین اسی مدت میں جب کہ امریکہ کے مہاجر طبقہ نے اپنے اکثریتی فریق سے موافقت کر کے غیر معمولی ترقی حاصل کر لی۔ اور اسی طرح
‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues