Al-Risala · March 1991 · page 22

ہندوستان کی مثال

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۲۲

جاپان نے اپنے اقلیتی فریق کے ساتھ موافقت کر کے عالمی سطح پر اپنے لئے نمایاں مقام حاصل کر لیا، اسی مدت میں ہندوستان کے دونوں فرقوں میں صرف دنگے اور فساد جاری رہے اور آج تک جاری ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ ہند و فرقہ کوئی حقیقی ترقی کا درجہ حاصل کر سکا اور نہ مسلم فرقہ ۔ دونوں کے دونوں بربادی کے گڑھے کے کنارہ کھڑے ہوئے ہیں۔

امریکہ کے زمانہ قیام میں میں روزانہ وہاں کے اخبارات پڑھتا تھا۔ مگر امریکہ کے اخبارات ہندوستان کی خبروں سے خالی تھے۔ اس مدت میں میں ہندوستان کے حالات سے اس طرح بے خبر ہو گیا کہ ہندوستان جیسے کسی ملک کا کره ارض پر کوئی وجود ہی نہیں ۔ ہندوستان جغرافی اعتبار سے بہت بڑا ملک ہے ۔ اس کے پاس ہر قسم کے بہترین وسائل موجود ہیں۔ اس کو آزادانہ حیثیت میں تقریباً نصف صدی تک عمل کا موقع ملا۔ مگر اس کے باوجود حالت یہ ہے کہ عالمی نقشہ میں ہندوستان کو کوئی بھی اہمیت حاصل نہیں۔

اس کا واحد سبب یہ ہے کہ ہندوستان میں ان دونوں میں سے کوئی واقعہ پیش نہ آسکا، حتی کہ کسی ملکی لیڈر نے رہنمائی کے درجہ میں بھی وہ بات نہ کہی جس کی شاندار مثال امریکہ اور جاپان میں موجود تھی۔ ہندوستان کو یا ہندوستان کے لیڈروں کو نہ امریکہ میں کوئی نمونہ ملا اور نہ جاپان میں۔ انھیں کرنے کا کام صرف یہ نظر آیا کہ وہ بے فائد ہ طور پر آپس میں لڑتے رہیں۔ یہاں تک کہ دنیا کی بین اقوامی برادری میں ایک پچھڑا ہوا گروہ بن کر رہ جائیں۔

مسئلہ کا حل

حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے مسئلہ کا حل صرف ایک ہے، اور وہ وہی ہے جس کو ہم نے حدیبیہ پرنسپل کہا ہے۔ یعنی دونوں فریقوں میں سے کسی ایک فریق کا اس پر راضی ہونا کہ وہ یک طرفہ طور پر تمام جھگڑوں کو ختم کر دے گا۔

اس معاملہ میں ہمارے لئے دو قسم کے نمونے پائے جاتے ہیں ۔ ایک وہ جس کی مثال امریکہ میں ملتی ہے۔ اور دوسرا وہ جس کی مثال جاپان پیش کر رہا ہے۔ امریکہ کی مثال میں ہندوستان کے اقلیتی فرقہ (مسلمان) کے لئے ایک جدید نمونہ ہے۔ اور جاپان کی مثال ہندوستان کے اکثریتی فرقہ (ہندو) کے لئے جدید نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہندوستان کے لئے لازم ہے کہ وہ ان دو میں سے کسی ایک نمونہ کو اختیار کرے ۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page