صبر کی طاقت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۱۱
طرح استقبال کریں ، وہ ہمیشہ آگے بڑھتے ہیں ۔ وہ اپنی نا کامی کو دوبارہ عظیم تر کامیابی میں تبدیل کر لیتے ہیں ۔
جب ایسا ہو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کے اوپر ظلم کرے ، اور مظلوم گروہ بھی اس کے جواب میں ظالمانہ کارروائی کرنے لگے تو دونوں گروہ اخلاقی اعتبار سے برابر ہو گئے ۔ ایسے دونوں گروہوں کو اللہ ان کی اپنی ذات کے حوالے کر دیتا ہے ۔ ان میں سے کسی کو بھی اللہ کی مدد حاصل نہیں ہوتی ۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ایک گروہ وہ دوسرے گروہ کو اپنے ظلم اور سرکشی کا نشانہ بنائے ۔ مگر مظلوم گروہ وہ جوابی کارروائی کرنے کے بجائے اس پر صبر کرلے ، تو خدا صابر گروہ کے ساتھ ہو جاتا ہے ۔ وہ مظلوم گروہ کی مدد کر کے اس کو ظالم گروہ کے اوپر فاتح بنا دیتا ہے ۔
مظلوم گروہ کو یہ فائدہ تمام تر صبر کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے ۔ صبر کوئی بے عملی کی حالت نہیں ، صبر سب سے بڑا عمل ہے ۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر اٹھتے ہوئے جذبات کو منفی رخ سے ہٹا کر مثبت رخ کی طرف پھیر دے ۔
صبر کی صفت اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے ۔ جو شخص صبر کرے وہ بے پناہ شخصیت کا مالک بن جاتا ہے ۔ تمام قوانین فطرت اس کے حق میں متحرک ہو جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کے تحت وہ ایک ناقابل تسخیر ہستی بن جاتا ہے ۔
صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھائے ۔ وہ ظالم کی بدخواہی کے جواب میں اس کے ساتھ خیر خواہی کر ناسکھا تا ہے ۔ وہ برے عمل کا جواب بھلے عمل سے دینے کا مزاج پیدا کرتا ہے ۔ صابر آدمی ظالم کے ظلم پر اس کے خلاف بد دعا نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کی ہدایت کی دعا مانگتا ہے ۔
صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ایسا نہ کرے کہ وہ اشتعال انگیزی کے وقت مشتعل ہو جائے اور عاجلانہ کارروائی میں اپنی طاقت کو ضائع کرے ۔ صبر آدمی کو بے پناہ حد تک طاقتور بنا دیتا ہے ۔ وہ آدمی کی خفیہ صلاحیتوں کو جگاتا ہے ۔ وہ آدمی کے چھپے ہوئے امکانات کو بیدار کر تا ہے ۔ وہ آدمی کے اندر منصوبہ بند کام کرنے کا مزاج پیدا کرتا ہے ۔ صبر آدمی کو معمولی انسان کے درجہ سے اٹھا کر غیر معمولی انسان کے درجہ میں پہنچا دیتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues