Al-Risala · March 1991 · page 25

ہندوستان کی مثال

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۲۵

گروہ بن جائیں وہ اس ملک میں مستحکم مقام کا درجہ بھی ضرور حاصل کر لیتے ہیں۔ دعوتی فائدہ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ اس سے بہت آگے جاتی ہے ۔ مسلمانوں کا اس ملک میں "حد یبیہ پرنسپل" کو اختیار کرنا ان کے لئے امریکی مہاجرین کی طرح صرف مادی فائدہ کا سبب نہیں بنے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑی بات یہ ہوگی کہ یہاں مسلمانوں کے دین کے لئے فتوحات کا وہ دروازہ کھل جائے گا جو دورِ اول میں حدیبیہ پرنسپل کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں ان کے اسلاف کے لئے کھلا تھا۔

مسلمان کی تمام حیثیتوں میں سب سے بڑی حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک صاحبِ نظر یہ قوم ہیں۔ وہ واحد ملت ہیں جن کے پاس محفوظ دین ہے ۔ انہیں اجارہ داری کے درجہ میں یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہ دنیا کو خدا کا صحیح تصور دے سکتے ہیں۔ مسلم ملت کی یہ حیثیت امکانی طور پر، اُس کو ساری دنیا کے اوپر نظری امام بنا رہی ہے۔ ان کے دین کی یہ امکانی خصوصیت اگر واقعہ بن جائے تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ساری دنیا کے اوپر فکری قیادت کا درجہ حاصل کر لیں گے۔ اسلام ایک محفوظ مذہب ہے۔ وہ ایک قائم شدہ دین کی حیثیت رکھتا ہے ۔ تاریخ اور علوم انسانی کی تمام گواہیاں اس کی تصدیق کر رہی ہیں۔ اسلام کی ان خصوصیات نے اسلام کے اندر تسخیری صلاحیت پیدا کر دی ہے۔ آج وہ اس طاقت کا حامل ہے کہ اپنے آپ لوگوں کے درمیان پھیلے ، اپنے آپ لوگوں کے دلوں میں داخل ہو جائے۔

آج صرف ایک چیز ہے جو اسلام کے تسخیری سیلاب کو پھیلنے سے روکے ہوئے ہے، یہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نزاع اور ٹکراؤ کی موجودہ فضا ہے۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اشتعال کی فضا نے اس معتدل ماحول کو ختم کر رکھا ہے جس میں غیر مسلم حضرات مسلمانوں کے مذہب (اسلام) کو کھلے دل کے ساتھ دیکھیں اور اس کو خود اپنی فطرت کی آواز پا کر اس کی طرف دوڑ پڑیں۔

اب اشاعتِ اسلام کا دروازہ کھولنے کی ذمہ داری تمام تر مسلمانوں پر آگئی ہے۔ یہ خود مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ داعی اور مدعو کے درمیان کشمکش کا خاتمہ کرکے اسلام کے لئے نئی تاریخ کا آغاز کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page