Al-Risala · March 1991 · page 26

ہندوستان کی مثال

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۲۶

مسلمان اگر صبر و اعراض کا ایک طرفہ طریقہ اختیار کر کے باہمی نفرت کی فضا کو ختم کر دیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام اپنے آپ پھیلنے لگے گا۔ یہاں تک کہ وہ وقت آئے گا جب کہ دنیا یہ منظر دیکھے گی کہ حدیبیہ پر نسپل کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں وہی واقعہ دوبارہ تاریخ میں پیش آگیا ہے جو دور اول میں اس اصول کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں پیش آیا تھا۔

تاریخ اپنے آپ کو دہرانے کے لئے تیار ہے، بشرطیکہ مسلمان اس حوصلہ مندی کا ثبوت دے سکیں کہ وہ دوبارہ اس فاتحانہ تدبیر کو دہرانے کے لئے تیار ہیں جو ان کے پیش روؤں نے چودہ سو سال پہلے دہرایا اور بظاہر شکست کے بعد وہ چیز حاصل کر لی جس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔ حدیبیہ پرنسپل کو اختیار کرنا کوئی سادہ سی بات نہیں، موجودہ حالات میں یہ مسلمانوں کے لئے ہم خرمی وہم ثواب کے ہم معنی ہے ۔ اس کے ذریعہ ایک طرف وہ اپنی دنیاوی زندگی کی تعمیر کے مواقع پالیں گے۔ وہ اس قابل ہو جائیں گے کہ ملک کے وسائل کو بھر پور طور پر اپنے حق میں استعمال کر کے اپنے آپ کو خوش حال اور ترقی یافتہ بناسکیں۔

دوسری طرف یہ تدبیر ملک میں اشاعت اسلام کے بند دروازے کو کھول دے گی۔ اس کے بعد اسلام اپنے آپ اس ملک میں پھیلنے لگے گا جس طرح موجودہ قومی جھگڑوں سے پہلے وہ مسلسل یہاں پھیل رہا تھا۔

قرآن میں "حدیبیہ پرنسپل" کا یہ فائدہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ سے فتح مبین بھی ملتی ہے اور اللہ کی مغفرت بھی حاصل ہوتی ہے (الفتح - ۲) یہ اسلامی اصول آج دوبارہ مسلمانوں کو پکار رہا ہے اور انہیں بشارت دے رہا ہے کہ اگر تم نے اس کو صحیح طور پر اختیار کر لیا تو وہ تمہاری دنیا کی کامیابی کا بھی ضامن ہے اور اسی کے ساتھ آخرت کی کامیابی کا ضامن بھی۔

روشن مستقبل الرسالة جنوری ۹۱ خصوصی نمبر کے طور پر بعنوان "روشن مستقبل " شائع کیا گیا تھا۔ جس میں ملک کے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اب اس شمارہ کو علیحدہ سے ایک مستقل کتابچہ کی صورت میں شائع کیا گیا ہے ضرورت ہے کہ اس کو ہر طبقہ کے لوگوں تک پہنچایا جائے ۔ جو حضرات اس کو زیادہ تعداد میں منگوا کر تقسیم کرنا چاہیں ان کو خصوصی رعایت کے ساتھ یہ کتابچہ فراہم کیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page