Al-Risala · March 1991 · page 36

سفر نامہ روس ــــــــ ۲

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۳۶

ذاتی کارکردگی سے ترقی کرسکتے ہیں۔ مگر جب تمام لوگوں کو سرکاری ملازم بنا کر انھیں مقرر تنخواہ پر ڈال دیا جائے تو لوگوں کے اندر ذاتی محرک کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ اب آدمی کسی چیلنج سے دوچار نہیں ہوتا جو اس کی قوت عمل کو متحرک کرے۔ ایسا سماج کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ اور یہی اشتراکی روس کے ساتھ ہوا۔

اشتراکی روس کے لئے مارکسزم کا دوسرا تحفہ جنگ جوئی تھا۔ مارکس نے بتایا کہ دنیا میں بہتر نظام لانے کے لئے جنگ ضروری ہے۔ کیوں کہ استحصال کرنے والا طبقہ نمائش کے ذریعہ اپنے مفادات سے دست بردار نہیں ہوتا۔ اس لئے مزدور طبقہ کو اس سے جنگ کرنی پڑتی ہے۔ تاکہ برابر ی کا سماج قائم کرنے میں جو واحد رکاوٹ ہے اس کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے۔ مارکس کا یہی نظریہ تھا جس نے سوویت یونین کو امریکہ کا دشمن بنا دیا۔ کیوں کہ "سرمایہ دارانہ نظام" کے اس سب سے بڑے ایجنٹ کو نابود کئے بغیر دنیا میں اشتراکی سماج نہیں لایا جا سکتا تھا۔ اس نظریہ نے روس کی بہترین طاقت کو جنگی کارروائیوں کی طرف موڑ دیا جس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ آخرکار وہ دیو الیہ ہو کر رہ گیا۔

اب اشتراکی روس نے اس مجنونا نہ قسم کے جنگی نظریہ سے تو بہ کرلی ہے۔ روس کے موجودہ حکمراں میخائیل گور با چیف کو ان کی قیام امن کی خدمات پر ۱۹۹۰ کا نو بیل انعام دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ناروے کی انعام کمیٹی کے بیان کے مطابق (ہندوستان ٹائمس ۱۶ اکتوبر ۱۹۹۰) گوربا چیف کے پرسترائیکا (Perestroika) کے نتیجہ میں پچھلے چند سالوں میں مشرق اور مغرب کے درمیان تعلقات میں ڈرامائی تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں۔ ٹکراؤ کی جگہ اب بات چیت نے لے لی ہے: In the last few years dramatic changes have taken place in the relationship between East and West. Confrontation has been replaced by negotiation. مگر عجیب بات ہے کہ عین اسی وقت ساری دنیا کے "اسلام پسند" نوجوانوں نے اس تباہ کن جنگی نظریہ کو اسلامائز کرکے اس کا جھنڈا اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ اب ہر جگہ وہ بم اور گولی کی منطق سے اسلامی انقلاب برپا کرنے کا ہنگامہ کھڑا کئے ہوئے ہیں۔ یہ مسلم نوجوان سید قطب ، خمینی اور مودودی کے نظریات سے متاثر ہیں اور ان کو مفکرین اسلام کا خطاب دیتے ہیں۔ حالانکہ زیادہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page