Al-Risala · March 1991 · page 37

سفر نامہ روس ــــــــ ۲

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۱، صفحہ ۳۷

صحیح بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو مخربینِ اسلام کا لقب عطا کیا جائے۔ میری لائبریری میں کمیونزم سے متعلق جو کتا بیں ہیں، ان میں سے ایک ساڑھے سات سو صفحہ کی وہ کتاب ہے جو مارکس، اینجلز اور لینن کی اہم ترین تحریروں (Most important writings) پر مشتمل ہے، اس کی ابتدا میں ناشر کی طرف سے جو نوٹ ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ یہ تحریریں ان قوانین سے بحث کرتی ہیں جو سماج کی ترقی میں حاکمانہ اثر رکھتی ہیں اور یہ بتاتی ہیں کہ سماجی ترقی میں انقلاب کا کردار کیا ہے:

They deal with the laws governing the development of society, tell the role of revolutions in social developmert. یہ کتاب ۱۹۷۲ کی چھپی ہوئی ہے۔ اس وقت یہ حال تھا کہ ان کمیونسٹ مفکرین کی تحریروں کو آسمانی صحیفہ کی طرح اٹل اور محکم بتا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا تھا۔ مگر اس کی اشاعت کے ۲۰ سال بعد جب میں سوویت روس کی دنیا میں داخل ہوا تو وہاں شاید کوئی ایک شخص بھی نہ تھا جو ماضی کی ان تحریروں کو پڑھنا تو درکنار ان کا تذکرہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہو۔ اس کتاب میں لینن کا مضمون ہے۔ اس میں مذہب کو بے حقیقت بتاتے ہوئے لینن نے کہا تھا کہ مذہب عوام کے لئے افیون ہے:

Religion is opium for the people (p. 411)

آج خود اشتراکی روس کا یہ حال ہے کہ وہاں کے درودیوار تک پکار رہے ہیں کہ مذہب ایک فطری صداقت ہے ، اور خود مارکسزم ایک افیون ہے جس میں روسی عوام کو ۷۰ سال تک مبتلا رکھا گیا ۔ " ہیروورشپ " کے مزاج کے تحت اگر چہ آج بھی لینن کا شخصی احترام روس میں باقی ہے، مگر اس کی تحریروں کو مقدس سمجھ کر اس کی تلاوت کرنے والا اب شاید ملک میں کوئی بھی نہیں۔ ماسکو میں میری طبیعت خراب ہوگئی۔ میں نے چاہا کہ میں مزید سفر کا سلسلہ ختم کر کے ماسکو ہی سے دہلی واپس چلا جاؤں۔ مگر معلوم ہوا کہ میں فوراً یہاں سے نہیں جا سکتا، کیوں کہ اگلی دو فلائٹ (ایر انڈیا، ایر وفلاٹ) مکمل طور پر بک ہو چکی ہیں۔ یہی حال ۲۸ جولائی کو یہاں آتے ہوئے ایرو فلاٹ کا تھا۔ بڑے جہاز کی تمام سیٹیں بھری ہوئی تھیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1991 All issues

Printed page