محمد رسول اللہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۶
لقاء ربه ، متفق عليه)
روزہ میں آدمی صبح سے شام تک بھوک اور پیاس کو برداشت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوتا ہے اور وہ روزہ توڑ کر کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے۔ اس وقت آدمی کی وہ حالت ہو جاتی ہے جس کے بارہ میں حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں : (ذهب الظما وابتلت العروق وثبت الأجر انشاء الله (پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوگئیں اور اجر ثابت ہو گیا، انشاء اللہ)
روزہ اور افطار دونوں دو مختلف تجربے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ دنیا کی اور آخرت کی تمثیل ہیں۔ دنیا میں آدمی پابندیوں اور ذمہ داریوں میں بندھا ہو ہے۔ آخرت میں وہ خوشیوں اور لذتوں سے محظوظ ہونے کے لئے آزاد کر دیا جائے گا۔ اس طرح روزہ کا وقت گویا دنیا کی علامت ہے، اور افطار کا وقت آخرت کی علامت ۔ رمضان کا مہینہ دنیا کی زندگی کو بتا رہا ہے ، اور عید ، جو زیادہ بڑے افطار کا دن ہے، آخرت کی زندگی کا تعارف کراتی ہے۔
آدمی کو چاہئے کہ رمضان کے دنوں میں جب وہ روزہ رکھے تو روزہ اس کے لئے دنیوی زندگی کی پہچان بن جائے۔ روزہ کی حالت میں اس کی نفسیات یہ ہو کہ جس طرح میں نے کھانے اور پینے سے اپنے آپ کو روکا ہے ، اسی طرح مجھے خدا کی منع کی ہوئی تمام چیزوں سے رکے رہنا ہے۔ اس دنیا میں مجھے عمر بھر ایک روزہ دار زندگی گزارنا ہے۔
اس کے بعد جب شام ہوا اور وہ روزہ ختم کرکے افطار کرے تو اس کا احساس یہ ہو کہ گویا وہ عالم آخرت میں پہنچ گیا ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے اس کی مہمانی کی جارہی ہے۔ آنسوؤں کی بارش میں وہ پکار اٹھے کہ خدایا ، میں نے تیری خاطر ”روزہ رکھا، اب تو میرے لئے“ افطار کی زندگی لکھ دے۔ میں نے تیرے لئے رمضان کو پورا کیا ، اب تو میرے اوپر ابدی عید کی لامحدود نعمتوں کے دروازے کھول دے۔ مومن کے لئے روزہ ، دنیا کی زندگی کا تجربہ ہے اور افطار ، آخرت کی زندگی کا تجربہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues