Al-Risala · April 1991 · page 8

ایک دعا

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۸

ایک دعا

عمر بن بحر بن محبوب الکنانی (۲۵۵ - ۱۶۳ھ) بصرہ میں پیدا ہوئے اور وہیں انتقال کیا۔ وہ عام طور پر الجاحظ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کا شمار ادب کے ائمہ میں ہوتا ہے۔ مطالعہ کے اتنے زیادہ حریص تھے کہ آخر عمر میں جب مفلوج ہو کر مرے تو ان کے سینہ پر کتاب رکھی ہوئی تھی۔ ان کی ایک کتاب "البیان والتبیین" ہے۔ اس کتاب کے مقدمہ میں انھوں نے یہ دعا لکھی ہے :

اللهم إنا نعوذ بك من فتنة القول اے اللہ ہم تجھ سے قول کے فتنے سے اسی طرح پناہ مانگتے كما نعوذ بك من فتنة العمل میں جس طرح ہم تجھ سے عمل کے فتنے سے پناہ مانگتے ہیں۔ و نعوذ بك من التكلف لما لا نحن اور ہم تجھ سے اس کام کا بار اٹھانے سے پناہ مانگتے ہیں جس كما نعوذ بك من العجب بما نحسن کو ہم بخوبی نہیں کر سکتے اور اسی طرح اس کام پر گھمنڈ سے و نعوذ بك من السلاطة والهذر پناہ مانگتے ہیں جس کو ہم بخوبی کر سکتے ہیں۔ اور ہم تجھ سے كما نعوذ بك من العي والحصر زباں درازی اور لغویات سے پناہ مانگتے ہیں جس طرح ہم تجھ سے کلام پر قادر نہ ہونے اور گفتگو میں عاجز ہو جانے سے پناہ مانگتے ہیں۔

یہ دنیا آزمایش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر چیز کے ساتھ کوئی نہ کوئی آزمایش کا پہلو لگا ہوا ہے۔ اس لیے وہ شخص جو خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو، اس کو ہر معاملہ میں خدا سے پناہ مانگنا چاہیے اور ہر معاملہ میں خدا کی مدد کا طالب ہونا چاہیے۔ اس دنیا کا اصل امتحان یہ نہیں ہے کہ آدمی نے کیا پایا اور کیا کھویا۔ یہاں اصل امتحان یہ ہے کہ کھونے یا پانے کے موقع پر اس نے کیا رد عمل (response) پیش کیا۔ اس کو قول کے معاملہ میں بھی اتنا ہی محتاط ہونا چاہیے جتنا کوئی شخص عمل کے معاملہ میں محتاط ہوتا ہے۔ اس کو اپنے کیے کو بھی اسی خانہ میں ڈالنا چاہیے جس خانہ میں وہ اپنے نہ کیے کو ڈالتا ہے۔ اس کو قدرت کے موقع پر بھی اسی طرح عبدیت کا ثبوت دینا چاہیے جس طرح عجز کے موقع پر عبدیت کا ثبوت دیا جاتا ہے۔

اس دنیا میں کامیابی بھی آزمایش ہے اور ناکامی بھی آزمایش۔ یہاں عمل بھی جانچ کا لمحہ ہے اور بے عملی بھی جانچ کا لمحہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues

Printed page