Al-Risala · April 1991 · page 13

جاہلیت کی پکار

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۱۳

ایک تقابل

الگزینڈر تو سپکو (Aleksandr Tosipko) سوویت روس کے ایک مشہور فلسفی ہیں۔ ان کی عمر ۵۰ سال کے قریب ہے۔ وہ ماسکو کے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اکنومک اینڈ پولیٹیکل اسٹڈیز میں پروفیسر ہیں۔ نیویارک کے ہفتہ وار میگزین نیوزویک کے نمائندے نے ان سے ماسکو میں ملاقات کی اور ایک خصوصی انٹرویو لیا جو نیوز ویک کے شمارہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۰ میں چھپا ہے۔ ایک سوال و جواب یہ ہے: Q. How did your views of Marxism evolve? What was most important in your personal development? A. When you read ‘Das Kapital’ it’s all crystal clear by the time you reach page three. Only an idiot can really believe in Marxism. نیوزویک کے نمائندہ نے پوچھا کہ مارءکسزم کے بارہ میں آپ کے خیالات کا ارتقا کس طرح ہوا۔ آپ کے ذاتی ارتقاء میں سب سے زیادہ اہم کیا چیز تھی۔ روسی پروفیسر نے جواب دیا: جب آپ مارکس کی کتاب داس کیپٹل کو پڑھیں تو اس کے تیسرے صفحہ تک پہنچتے ہی بات بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ کوئی دیوانہ ہی حقیقتہً مارکسزم کی صداقت پر یقین کر سکتا ہے۔

سرمایہ دارانہ اقتصادیات کے بارہ میں مارکس نے اپنی کتاب داس کیپٹل جرمن زبان میں لکھی تھی۔ وہ پہلی بار ۱۸۶۷ء میں چھپی۔ اشتراکی حضرات کا کہنا تھا کہ یہ دور جدید کا قرآن ہے۔ اب انسان کو بائبل یا قرآن کی ضرورت نہیں، اب داس کیپیٹل انسان کے لیے رہنما کتاب ہے۔ مگر صرف ایک صدی کے اندر اس کا طلسم ٹوٹ گیا ۔ حتی کہ اب خود اشتراکی دنیا میں اس کتاب کو دیوانگی کی کتاب کہا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس قرآن اپنی اہمیت کو چودہ سو سال سے مسلسل برقرار رکھے ہوئے ہے فتنہ آن اور صاحب قرآن کے خلاف اب تک اس قسم کی کوئی بات ثابت نہ کی جا سکی۔ قرآن آج بھی کتاب لاریب“ بنا ہوا ہے۔ یہ قرآن کی ابدی صداقت کا ایک ناقابل انکار ثبوت ہے۔

انسانی کتابوں کا حال یہ ہے کہ وہ تیسرے صفحہ تک پہنچتے ہی اپنی غلطی کو واضح کر دیتی ہیں۔ اس کے برعکس قرآن اپنے آخری صفحہ تک ایک بے خطا کتاب ہے۔ یہ علمی واقعہ اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے نہ کہ کوئی انسانی کتاب۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues

Printed page