Al-Risala · April 1991 · page 14

داعی کا اخلاق

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۱۴

داعی کا اخلاق

ایک دکاندار ہے۔ اس کے یہاں ایک گاہک آتا ہے ۔ اس گاہک کو ۵۰ ہزار روپیہ کا مال خریدنا ہے ۔ بات چیت کے دوران گاہک کی زبان سے کوئی کڑوابول نکل جاتا ہے ۔ اس پر دکاندار کو غصہ آجاتا ہے ۔ وہ بھی جواب میں کڑوی بات بول دیتا ہے ۔ گاہک بگڑ جاتا ہے ۔ وہ وہاں سے اٹھ کر چلا جاتا ہے، اور دوسری دکان سے خریداری کا معاملہ کرتا ہے ۔ اب یہ دکاندار اگر واقعی دکاندار ہے تو وہ اپنے آپ کو ملامت کرے گا۔ وہ سوچے گا کہ میں کیوں غصہ ہو گیا ۔ مجھے چاہیے تھا کہ میں اس کی بات کو برداشت کر لیتا۔ اس کے کڑوے بول کو نظر انداز کرتے ہوئے اس سے میٹھا بول بولتا۔ اگر میں ایسا کرتا تو ایک قیمتی گاہک میرے ہاتھ سے نہ نکلتا ۔ خواہ مخواہ میں نے آئے ہوئے گاہک کو کھو دیا ۔

اس کے برعکس اگر دکاندار کے اندر ” دادا “ والا مزاج ہے تو وہ اپنے آپ کو بھول کر صرف گاہک کو برا بتائے گا ۔ وہ کہے گا کہ یہ شخص خریداری کرنے آیا تھا یا میرے اوپر ڈکٹیٹری کرنے آیا تھا۔ میں کیوں کسی سے دبوں، کیا میں کسی کا غلام ہوں۔ مجھے ایسے گاہکوں کی کوئی پروا نہیں۔ ان کو آنا ہے تو آئیں اور نہیں آنا ہے تو نہ آئیں ۔ اس مثال میں پہلا دکان دار سچا دکاندار ہے ، اور دوسرا دکاندار جھوٹا دکاندار ۔

دعوت کے عمل کو قرآن میں تجارت ( الصف (۱۰) سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ تاجر ہمیشہ ذمہ داری کو خود قبول کرتا ہے، اس کے بغیر وہ دوسروں کو اپنا گاہک نہیں بنا سکتا۔ اسی طرح خدا کا داعی ایسا کرتا ہے کہ وہ فریق ثانی کی زیادتیوں کو نظر انداز کر کے یک طرفہ طور پر اس کے ساتھ حسن اخلاق کا معاملہ کرتا ہے ، کیوں کہ اس کے بغیر وہ دوسروں کو اپنا مدعو نہیں بنا سکتا۔ ایک تاجر اپنی دنیا کے فائدہ کے لیے جو کچھ کرتا ہے ، وہی ایک داعی اپنی آخرت کے فائدہ کے لیے کرتا ہے ۔ اس اعلیٰ کردار کے بغیر نہ کوئی تاجر بن سکتا ، اور نہ کوئی داعی داعی ۔

تاجرانہ کردار کے بغیر تجارت نہیں ، اسی طرح داعیانہ کردار کے بغیر دعوت نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues

Printed page