نفع بخشی کی طاقت
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۱۹
ہندوستان ٹائمز (۲۸ دسمبر ۱۹۹۰) نے ایک ہندستانی صحافی مقیم واشنگٹن مسٹر این سی من کی رپورٹ چھاپی ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ عام طور پر لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ جب روسی صدر میخائل گورباچیف نے راجیو گاندھی کی حکومت کے زمانہ میں انڈیا کا دورہ کیا۔ اس وقت سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے انڈیا، چین اور سوویت یونین کے درمیان قریبی تعاون کی تجویز پیش کی تھی تاکہ امریکی دیو( (اور شاید یورپ کے ابھرتے ہوئے اتحاد) کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوستانہ دھڑا قائم کیا جاسکے۔ صدر گورباچیف نے بے رحمانہ صاف گوئی کے ساتھ اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمیں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ نئی ٹکنالوجی ہے، اور نئی ٹکنالوجی ہم کو نہ چین دے سکتا ہے اور نہ انڈیا۔
پچھلے چالیس سال سے روس نے ”سرمایہ دار مغرب “ کو اپنا دشمن سمجھ رکھا تھا۔ اور ‘‘سوشلسٹ انڈیا “ کو اپنا دوست بنائے ہوئے تھا۔ مگر لمبے تجربے کے بعد اس کو معلوم ہوا کہ انڈیا سے اس کو کوئی فائدہ نہیں، جب کہ سرمایہ دار مغرب اس کی ترقی میں نہایت اہم مددگار بن سکتا ہے۔ اس نے انڈیا کو چھوڑ دیا اور اختلاف اور شکایت کو نظر انداز کرتے ہوئے سرمایہ دار مغرب سے دوستی قائم کرلی۔
”سرمایہ دار ملک “ نے اپنی نفع بخشی کی صلاحیت کے ذریعہ اپنے سب سے بڑے دشمن کو جیت لیا۔ اور سوشلسٹ انڈیاکی غیر نفع بخشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو اپنے سب سے بڑے دوست سے محروم ہو جانا پڑا۔ یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا اصل راز ہے۔ اس دنیا میں کامیابی نفع بخشی کی بنیاد پر ملتی ہے نہ کہ الفاظ کا گنبد کھڑا کرنے سے۔
الرسالة اور اسلامی مرکز کی کتابیں مندرجہ ذیل پتہ سے حاصل کیجئے :
‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues