الو کا سبق
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۲۰
الو کا سبق
الو کو عام طور پر نحوست اور بیوقوفی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ بہت سے لوگ اس کو بیکار سمجھ کر مار ڈالتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا کی دنیا میں کوئی چیز بے فائدہ نہیں ۔ الو ہماری زراعت اور فصلوں کے لیے بے حد مفید ہے ۔ کیوں کہ وہ فصل کو نقصان پہونچانے والے کیڑوں کو شکار کر کے انھیں کھا جاتا ہے ۔ الو کی غذا نقصان رساں کیڑے اور موذی جانور ہیں ۔ اس اعتبار سے الو ان بہت سے انسانوں سے اچھا ہے جو محض اپنی حرص اور اپنے اقتدار کے لیے لوگوں کو ہلاک کرتے ہیں ۔ جو کار آمد چیزوں کو برباد کر کے فتح حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
الو کی ۱۳۰ قسمیں معلوم کی گئی ہیں ۔ وہ چار اونس سے لے کر چھ پونڈ وزن تک کے ہوتے ہیں ۔ اسی اعتبار سے ان کی غذا کی مقدار بھی مختلف ہے ۔ چھوٹے الو تقریباً سات اونس خوراک کھاتے ہیں ۔ اور بڑے الو دو پونڈ سے زیادہ تک کھا جاتے ہیں ۔ الو عام طور پر رات کے وقت شکار کرتے ہیں ۔ وہ بڑے کیڑے ، چوہے ، چھپکلیاں ، سانپ ، چھوٹے خرگوش وغیرہ کو پکڑتے ہیں ۔ یہ تمام چیزیں وہ ہیں جو زراعت کو یا انسان کو نقصان پہونچانے والی ہیں ۔
الو کے جسم کی بناوٹ شکار کے کام کے لیے نہایت موزوں ہے ۔ مثلاً ایک ماہر طیور کے لفظوں میں ، وہ رات کے وقت انتہائی خاموش پرواز (Silent flight) کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ وہ رات کی تاریکی میں کیڑوں یا جانوروں کی صرف آواز سے ان کے مقام کا پتہ لگا لیتا ہے اور تیزی اور خاموشی سے وہاں پہونچ کر اچانک ان کو پکڑ کر نگل جاتا ہے (ہندوستان ٹائمز ۹ ستمبر ۱۹۸۹) خدا کی دنیا میں کوئی چیز بے فائدہ نہیں ۔ یہاں کوئی چیز حکمت سے خالی نہیں ۔ خدا کی دنیا میں الو جیسی چیز بھی اس کا ایک مفید جز ر ہے ۔ ایسی حالت میں جو انسان دنیا میں اس طرح رہیں کہ انھوں نے دوسروں کے لیے اپنی افادیت کھودی ہو ۔ جو دنیا کے مجموعی نظام میں ایک فائدہ بخش عنصر کی حیثیت نہ رکھتے ہوں ۔ جو انسانی سماج میں مفید حصہ بننے کے بجائے مضر حصہ بن گیے ہوں ۔ وہ بلاشبہ خدا کی نظر میں الو سے بھی زیادہ بے قیمت ہیں ۔ ایسے لوگوں کی ضرورت نہ خدا کو ہے اور نہ عام انسانیت کو ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues