Al-Risala · January 1991 · page 16

فتح باب

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۱۶

یہاں تک کہ آخر کار اس نے اسلام قبول کر لیا (ایمانی طاقت ۲۶ - ۲۷)

مسلمانوں پر جو مصیبت آتی ہے، وہ قرآن کے مطابق ، مصیبت نہیں ہوتی بلکہ آزمائش ہوتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے دلوں کو پاک کرے اور ان کی فکر کی تصحیح کرے ( آل عمران ۱۴۲) موجودہ حالات مجھے ٹھیک اسی نوعیت کے نظر آرہے ہیں۔

عباسی دور کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تاتاریوں کے ذریعہ جھنجھوڑا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی حاکمانہ فکر دوبارہ دعوتی فکر میں تبدیل ہوئی۔ ان کا احساسِ برتری ٹوٹا اور اس کی جگہ تواضع ، پرسوزی اور حقیقت پسندی کا احساس ابھر آیا۔ ان چیزوں نے مسلمانوں میں دوبارہ وہ اوصاف پیدا کیے جو داعی کے اوصاف ہوتے ہیں۔ وہ تاتاریوں کے درمیان اس سیدھے اور سچے اسلام کے نمائندہ بن گئے جو انسان کو خود بخود اپنی طرف کھینچتا ہے۔

اس طرح مسلم دنیا میں ایک نیا عمل جاری ہوا جس کو دعوتی عمل کہا جا سکتا ہے۔ اس نے تاتاریوں کے دلوں کو مسخر کرنا شروع کر دیا۔ تاتاری قبائل اسلام میں داخل ہونے لگے۔ یہاں تک کہ پچاس سال کے اندر بیشتر تاتاریوں نے اور خود ان کے شاہی خاندان نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ لوگ جو اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا نعرہ لے کر اٹھے تھے ، وہ اسلام کے خادم اور سپاہی بن گئے۔ حالات بتاتے ہیں کہ یہی تاریخ دوبارہ دہرائی جانے والی ہے۔ اور یہ سب کچھ خود اللہ کی طرف سے کیا جارہا ہے ، اور اللہ بلا شبہ سب سے بڑا کار ساز ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues

Printed page