آسمانی انتظام
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۲۷
کہ ایک فریق کے پھینکے ہوئے میزائل کو دوسرے فریق نے راستہ ہی میں ناکارہ کر دیا۔ اس کا جواب خاص طور پر دو امریکی سیاروں میں ہے جو ایک زمینی اسٹیشن سے کنٹرول کئے جا رہے تھے ۔ یہ زمینی اسٹیشن وسط آسٹریلیا میں واقع ہے۔
اس تدبیر کو ڈیفنس سپورٹ پروگرام کہا جاتا ہے۔ امریکہ کے یہ جاسوسی سیارے ڈیڑھ سو میل اوپر زمین کے گرد گھوم رہے ہیں۔ وہ مسلسل عراق کے بارے میں معلومات دیتے رہتے ہیں، خواہ موسمی حالات جو بھی ہوں۔ وہ نہ صرف اس وقت عراق کی تصویر لیتے ہیں جب کہ وہ براہ راست عراقی فضا کے اوپر ہوں بلکہ وہ مخصوص نظام کے تحت اس وقت بھی عراق کی تصویر حاصل کر لیتے ہیں جب کہ وہ کنارے کی طرف اڑ رہے ہوں۔
اس سیارے میں تین میٹر لمبی انفار ڈ دور بین لگی ہوئی ہے۔ جب اسکڈ میزائل چھوڑا جاتا ہے تو فضا میں اس کی سخت گرمی کے ذریعہ یہ سیارہ فوراً ہی اس کو معلوم کر لیتا ہے۔ اور عین اسی لمحہ زمین پر لگے ہوئے پیٹریٹ میزائل کو اس کی خبر دے دیتا ہے۔ اس کے بعد کمپیوٹر فوراً پیٹریٹ میزائل کو نشانہ کی طرف داغ دیتا ہے۔ میزائل فضا میں پہنچ کر اسکڈ سے ٹکرا کر اس کو عین راستہ میں برباد کر دیتا ہے۔ یہ سارا کام صرف ایک منٹ کے اندر انجام پاتا ہے۔ سٹیلائٹ کے ذریعہ جاسوسی کا خاص فائدہ یہ ہے کہ وہ دشمن کی مار کی حد سے پوری طرح محفوظ رہتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دفاعی سپورٹ کا یہ پورا سیاراتی نظام ۲۴ گھنٹے عراق کا جائزہ لیتا ہے اور اس کی تصویریں بھیجتا رہتا ہے۔ وہ ہر موسمی حالت میں یکساں طور پر کام کرتا ہے :
These Defence Support Programme satellites provide round-the-clock coverage of Iraq in all weather conditions. یہ واقعہ تمثیل کے روپ میں یاد دلاتا ہے کہ اسی طرح ایک اور " آسمانی مشاہدہ" ہے جو زیادہ بڑے پیمانہ پر ساری دنیا کی نگرانی کر رہا ہے۔ وہ دونوں فریقوں کو یکساں طور پر دیکھ رہا ہے۔ وہ کسی ایک ملک کو نہیں بلکہ تمام ملکوں اور تمام انسانوں کا ہر لمحہ معاینہ کر رہا ہے۔ یہ وہ برتر مشاہدہ ہے جو خدائی نظام کے تحت قائم ہے۔ خدائی مشاہدہ کا یہ نظام اس لئے قائم کیا گیا ہے تاکہ وہ ظالم کے ظلم کا توڑ کرے، تاکہ وہ مجرم کے خلاف بروقت مداخلت کر کے اس کے مفسدانہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues