Al-Risala · April 1991 · page 28

خاتونِ اسلام از: مولاناوحیدالدین خاں

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۲۸

منصوبہ کو نا کام بنائے اور جو شخص حق پر ہے اس کی مدد کر کے اسے کامیاب کر دے۔ جب بھی کوئی شخص کسی کے خلاف برا اقدام کرے تو اس کو جاننا چاہیے کہ اس کے اقدام کا کام ہو جانا یقینی ہے۔ اس کے برے اقدام کو خدا کے فرشتے درمیان ہی میں مداخلت کر کے بے اثر کر دیں گے۔ خدا کی دنیا میں کوئی فاسد منصوبہ کبھی اپنی تکمیل تک پہنچنے والا نہیں۔ موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ آزمائش کی مصلحت کی بنا پر یہاں ہر شخص کو آزادی حاصل ہے۔ ہر شخص کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ اس آزادی کی بنا پر کبھی ایک آدمی دوسرے آدمی کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

مگر یہ آزادی لامحدود نہیں ہے۔ آزادی دینے کے ساتھ خدا لوگوں کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔ وہ کسی کو یہ موقع نہیں دیتا کہ وہ اپنی آزادی کو بے قید اور لامحدود انداز میں استعمال کرے۔ ایک حد کے بعد خدا آدمی کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے۔ ایک حد کے بعد وہ آدمی کو اس سے روک دیتا ہے کہ وہ اپنی آزادی کو دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کرے۔

خدا کا وعدہ ہے کہ وہ مشکل کے وقت ضرور اپنے بندہ کی مدد کرتا ہے۔ کبھی مشکل پیش آنے کے بعد فوراً اور کبھی مشکل پیش آنے کے کچھ دیر بعد۔ خدا کی یہ مدد کبھی ایک صورت میں آتی ہے اور کبھی دوسری صورت میں۔ اس کی کوئی ایک مقرر اور متعین صورت نہیں۔

خاتونِ اسلام از: مولاناوحیدالدین خاں

اسلامی شریعت میں عورت کا مقام ۔ اسلام اور جدید تہذیب کا تقابل عورت کا درجہ اسلام میں وہی ہے جو مرد کا درجہ ہے۔ عزت اور احترام کے جو احکام ایک صنف کے لئے ہیں وہی احکام دوسری صنف کے لئے بھی ہیں۔ دنیا کے حقوق اور آخرت کے انعامات میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ البتہ اسلام کے نزدیک مرد مرد ہے اور عورت عورت۔ زندگی کا نظام چلانے میں دونوں برابر کے شریک ہیں، تاہم فطری فرق کا لحاظ کرتے ہوئے اسلام نے دونوں کے درمیان تقسیم کار کا اصول رکھا ہے نہ کہ یکسانیت کار کا اصول۔ (پیپر بیک ۴۰ روپیہ، صفحات ۲۸۰ ) 8-1-85063-81 ISBN

‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues

Printed page