مسجد اسلام میں
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۳۲
مسجد اسلام میں
اب میں مسجد کے بارہ میں مسلم نقطۂ نظرکو بتانا چاہتا ہوں۔ یہ بات صحیح ہے کہ مسجد اسلامی شریعت کے مطابق ایک مقدس جگہ ہے۔ جب ایک مقام پر مسجد بنادی جائے تو وہ جگہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہو جاتی ہے اور مسلم عقیدہ کے مطابق اس کو کسی بھی طریقہ پر ختم یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ گمہ جہاں مسجد کے بارے میں یہ شدید مسلم عقیدہ ہے۔ اسی کے ساتھ خود مسلم عقیدہ کے مطابق یہ مسئلہ بھی ہے کہ اگر مسجد غصب کی جگہ پر یا ناجائز جگہ پر بنائی جائے تو وہ مسجد نہیں ہوگی۔ وہاں نماز پڑھنا ناجائز ہوگا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں پر یہ فرض ہوگا کہ وہ اس جگہ کو اس کے اصل مالک کی طرف واپس لوٹادیں۔
اب دھیا کی مذکورہ عمارت کے حل کے لئے اگر مذکورہ تدبیر اختیار کی جائے تو وہ کسی بھی اعتبار سے مسلم عقیدہ سے نہیں ٹکراتی۔ اگر مورخین کا بورڈ یہ فیصلہ کرے کہ موجودہ عمارت جائز طور پر مسجد کی حیثیت سے بنائی گئی تھی تو اس کی موجودہ حیثیت علی حالہ برقرار رہے گی۔ اس کے برعکس اگر مورخین کا بورڈ تاریخی حقائق کے حوالہ سے یہ فیصلہ دیتا ہے کہ موجودہ عمارت کی حیثیت جائز طور پر تعمیر کردہ مسجد کی نہیں ہے تو ایسی حالت میں اس کو اصل مالکوں کی طرف لوٹادینا ہی شریعت کا تقاضا ہوگا۔ بالفرض اگر مورخین کے بورڈ کا فیصلہ مسلمانوں کے موجودہ دعویٰ کے مطابق نہ ہو تب بھی مسلمانوں کو اسے قبول کر لینا چاہئے کیوں کہ مورخین کے فیصلہ کے بعد وہ ذاتی طور پر بری الذمہ ہو جاتے ہیں اس کے بعد خالص شرعی اعتبار سے ان کی کوئی پکڑ نہیں ہے۔ اس کے بعد خدا کے یہاں اگر کسی کی ذمہ داری ہے تو وہ مورخین کا بورڈ ہے نہ کہ مسلمان۔
ثالثی کا مسئلہ
یہاں میں ثالثی کے اسلامی اصول کے بارہ میں مختصر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ قرآن میں ثالث (arbiter) کا اصول بتایا گیا ہے۔ بیوی اور شوہر میں باہمی نزاع ہو تو اس کو حل کرنے کے لئے یہ طریقہ بتایا گیا ہے کہ دو افراد کا ایک ثالثی بورڈ مقرر کر کے اس کو حل کیا جائے (۳۵: قرآن کے انگریزی مترجم عبداللہ یوسف علی نے اس اصول کو سب بطور خاندانی جھگڑے کو حل کرنے کا بہترین طریقہ کہا ہے:
‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues