An excellent plan for settling family disputes.
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۳۳
An excellent plan for settling family disputes.
قرآن میں یہ حکم ابتداً خاندانی نزاع کو حل کرنے کے لئے آیا تھا۔ اس کے بعد یہ مسلم قانون کا ایک مستقل جز بن گیا اور اسلامی تاریخ میں بار بار نزاعی معاملات اس اصول کے ذریعہ حل کئے گئے۔ یہاں میں اس نوعیت کی ایک مثال مختصر درج کرنا چاہتا ہوں۔
بنو امیہ کے زمانہ میں دمشق میں جامع مسجد بنائی گئی جو ۷۱۵ء میں مکمل ہوئی ۔ وہ آج بھی وہاں موجود ہے۔ اس مسجد کے بارہ میں شام کے عیسائیوں کو یہ شکایت تھی کہ اس میں ایک قدیم چرچ کا حصہ بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ عمر بن عبد العزیز ۷۱۷ء میں خلیفہ مقرر ہوئے ۔ ۷۲۰ء میں خلیفہ کی حیثیت سے ان کا انتقال ہوا۔
حضرت عمر بن عبد العزیز جو اسلامی تاریخ میں عمر ثانی کہے جاتے ہیں، ان کے پاس شامی عیسائیوں کا ایک وفد آیا۔ اس نے شکایت کی کہ پچھلے خلیفہ نے ہمارے چرچ کو مسجد میں شامل کر دیا تھا۔ اب آپ انصاف کریں۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے محمد بن سوید النھری کو ثالث مقرر کیا۔ انھوں نے تحقیق کر کے بتایا کہ عیسائیوں کی شکایت درست ہے۔ اس کے بعد عمر بن عبد العزیز نے حکم دیا کہ مسجد میں گرجاکا جو حصہ ہے وہ پوری زمین عیسائیوں کو دے دی جائے۔
تاہم اس حکم پر عملدرآمد کی نوبت نہیں آئی۔ کیوں کہ عیسائی اصلاً اسلامی انصاف کو آزمانا چاہتے تھے۔ انھوں نے اس کو آزمایا اور اس کو پورا پایا۔ اس کے بعد انھوں نے اعلان کر دیا کہ ہم اپنی خوشی سے یہ حصہ مسلمانوں کے عبادت خانہ کے لئے دیتے ہیں۔ (خلیفہ الزاہد عمر بن عبد العزیز ) اوپر جو بات کہی گئی، وہ دینی اور تاریخی دونوں اعتبار سے انتہائی واضح ہے۔ مسلمانوں کے نام نہاد سیاسی لیڈروں کی بابت میں کوئی پیشگی اندازہ نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ وہ کسی اصول کے پابند نہ ہونے کی بنا پر قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کے حامل نہیں ۔ تاہم میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مسلم علماء اور مسلم عوام دونوں میری اس تجویز سے اتفاق کریں گے۔ یہ تجویز عین شرعی حدود کے مطابق ہے، اس لئے مسلم علماء کے لئے اس کو قبول کرنا مشکل نہیں ہو سکتا۔ اور جہاں تک مسلم عوام کا تعلق ہے، وہ ہر چیز سے پہلے پرامن زندگی چاہتے ہیں، اور یہ تجویز بلاشبہ ان کے لئے اس ملک میں پر امن زندگی کی یقینی ضمانت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues