سفر نامہ روس - ۳
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۳۸
مسجد میں داخل ہواتو دروازہ کے بائیں طرف دیوار سے ملی ہوئی لمبی الماری تھی ۔ اس میں جوتارکھنے کے لئے بہت سے چھوٹے چھوٹے خانے بنے ہوئے تھے ۔ یہ خانے اس طرح سلیقہ سے بنائے گئے تھے کہ وہ مسجد کے دوسرے خوب صورت حصوں کے ساتھ بے جوڑ نہیں معلوم ہوتے تھے۔ اس وقت تقریباً ساٹھ نمازی تھے۔ کسی نے اپنے جوتے کو اتارنے کی جگہ چھوڑ دیا ، کسی نے خانہ میں رکھ دیا۔ تمام نمازیوں میں سے کوئی بھی شخص نہ تھا جو جوتے کو اتار کر ہاتھ میں لے اور اس کو سجدہ گاہ کے سامنے رکھ کر نماز ادا کرے۔
نماز سے فارغ ہو کر نکلا تو جوتا اتارنے کی جگہ پر وہ منظر دکھائی نہیں دیا جو د ہلی اور دوسرے مقامات کی مسجدوں میں اکثر نظر آتا ہے۔ ایک یا ایک سے زیادہ آدمی حیران و پریشان کھڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان سے پوچھیے کہ آپ کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا تو وہ بتائیں گے کہ ”یہاں جوتا اتارا تھا ، مگر وہ کہیں نظر نہیں آرہا ہے‘‘۔ ہندوستان اور پاکستان والوں کو دعویٰ ہے کہ ان کے یہاں سب سے زیادہ اسلام پایا جاتا ہے۔ مگر غالباً ہندوستان اور پاکستان ہی وہ ملک ہے جہاں کی مسجدوں میں نمازیوں کے جوتے اٹھالئے جاتے ہیں۔
وضو خانہ مسجد کے وسیع احاطہ میں باہر کی طرف تھا۔ اس کو ”ماڈرن“ وضو خانہ کہا جاسکتا ہے۔ اس میں خاص انداز کے مقام وضو کے علاوہ صابن ، تولیہ ، واش بیسن اور کوٹ وغیرہ کا انتظام تھا۔ میرے قریب ایک صاحب بنچ پر بیٹھے ہوئے وضو کر رہے تھے۔ وہ کوٹ پتلون اور ٹائی میں تھے۔ مگر وہ عربی یا انگریزی نہیں جانتے تھے۔ انھوں نے نہایت پرمسرت لہجہ میں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا ” حج ... جدہ ... مکہ “ پھر چار انگلیوں سے اشارہ کیا۔ اس کا مطلب غالباً یہ تھا کہ میں نے اور میرے خاندان کے چار آدمیوں نے حج کیا ہے۔
آج یہاں دو جنازہ بھی تھا۔ نماز ظہر سے پہلے جنازہ کی نماز پڑھی گئی۔ دونوں نمازوں سے پہلے اور بعد کو امام صاحب نے ذکر و دعا کے کلمات کہے۔ ظہر کی نماز میں کافی آدمی تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ آج جنازہ کی وجہ سے بہت سے مرد اور عورتیں یہاں آئی ہوئی تھیں۔ یہاں جو عورتیں نظر آئیں وہ سب اسکرٹ پہنے ہوئے تھیں ، یہاں مسلم اور غیر مسلم عورتوں کا لباس اتنا ملتا جلتا ہے کہ باہر دیکھ کر بظاہر یہ سمجھا نہیں جا سکتا کہ کون مسلم خاتون ہیں اور کون غیر مسلم خاتون۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues