Al-Risala · April 1991 · page 40

سفر نامہ روس - ۳

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۴۰

ریاستی اقتصادیات (state economy) کا طریقہ اختیار کرنے کی وجہ سے روسی معیشت میں محرک عمل کا ختم ہو جانا۔ گور باچوف اگر اپنی کوششوں میں کامیاب ہوتے ہیں، تو وہ روسی قوم سے ان دونوں کمزوریوں کو دور کر دیں گے۔ اس کے بعد یہ ممکن ہو جائے گا کہ روسی قوم کی امکانی صلاحیت ظاہر ہونا شروع ہو جائے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد پیدا ہونے والے حالات نے روس کو دوسرے سپر پاور کی حیثیت دے دی تھی۔ لیکن گور باچوف کی قیادت میں روس نے امریکہ سے مفاہمت کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اگر وہ کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہا تو تقریباً یقینی ہے کہ مستقبل قریب میں روس اپنی سپر پاور کی حیثیت کھودے گا۔ روس کو سپر پاور کی حیثیت ہتھیار کی سطح پر حاصل تھی۔ موجودہ معاہدوں کے تحت جب ہتھیار کو غیر مؤثر بنا دیا جائے گا تو اس کے بعد اصل فیصلہ کن چیز اقتصادی طاقت بن جائے گی۔ اور غیر حربی اقتصادی میدان میں روس، امریکہ اور جاپان سے بہت پیچھے ہے، تاہم اس تاریک حال میں اس کے لئے ایک روشن مستقبل کا امکان چھپا ہوا ہے۔ ماسکو کی ایک بے حد چوڑی سڑک تھی۔ دونوں طرف درختوں کی قطاریں دور تک چلی گئی تھیں۔ موسم نہایت خوشگوار تھا۔ ہماری گاڑی اس پر تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ یہ ایک خصوصی آرام دہ گاڑی تھی۔ سیٹ کے آگے اتنی زیادہ خالی جگہ تھی کہ آدمی پور ا پاؤں نہایت آسانی کے ساتھ پھیلا سکتا تھا۔ میں خاموشی سے سر پکڑے ہوئے اس کے اندر بیٹھا ہوا تھا۔ میرے ساتھی نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا : یہ گاڑی جس میں آپ سفر کر رہے ہیں وہ یہاں بے حد اہم شخصیتوں (VVIPs) کے لئے ہوتی ہے۔ اس وقت ہم لوگ ایک روسی وزیر سے ملنے کے لئے جا رہے تھے۔ میں نے ساتھی کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا: میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ آپ مجھے بہت جلد ماسکو سے دہلی واپس بھیج دیجئے۔

سفر میرے لئے ہمیشہ مصیبت کا باعث ہوتا ہے۔ سفر میں معمولات کا ٹوٹنا میرے لئے اتنا سخت ثابت ہوتا ہے کہ آرام بھی مجھ کو کاٹنے لگتا ہے۔ اور اب بڑھاپے کی عمر کو پہنچنے کے بعد تو یہ کیفیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ حتی کہ اب میں یہ سوچنے لگا ہوں کہ میں اسفار کا سلسلہ بالکل بند کر دوں۔ حالاں کہ ان سطور کے لکھنے کے وقت بھی میرے پاس کئی مقامات کے دعوت نامے موجود

‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues

Printed page