Al-Risala · April 1991 · page 41

سفر نامہ روس - ۳

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۱، صفحہ ۴۱

ہیں ۔ امریکہ ، جاپان ، جرمنی ، انگلینڈ ، اٹلی ، پاکستان ، لیبیا ، وغیرہ روسی میزبانوں کے سخت اصرار کے باوجود میں نے اپنا سفر مختصر کر دیا اور درمیان سے واپسی کا فیصلہ کیا ۔ بالآخر وہ لوگ بھی راضی ہوگئے ۔ اب مجھے ۳۱ جولائی کو ہوٹل چھوڑنا تھا ۔ صبح کو فجر کی نماز پڑھی ۔ نماز کے بعد ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ دعا کے لئے ہاتھ اڑایا ۔ میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے ؛ یا اللہ مجھے بخش دیجئے ۔ آپ کے اس عاجز بندہ کو غیر جہنم بھی برداشت نہیں ، پھر جہنم اس سے کیوں کر برداشت ہوگی ۔ ایک ایسا انسان جوراحت کا بھی تحمّل نہیں کرسکتا ، وہ عذاب کا تحمل کس طرح کرے گا ۔

یکم اگست ۱۹۹۰ کو میں ماسکو ائیر پورٹ پر جہاز کے انتظار میں بیٹھا تھا ۔ مختلف سرگرمیوں کے مناظر آنکھوں کے سامنے تھے ۔ مختلف ملکوں کے عورت اور مرد آتے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے ۔ اس دور ان ایک لطیف تجربہ گزرا ۔ دل کے احساس کو رقم کرنے کے لئے آنکھوں نے روشنائی فراہم کی ۔ ایک ربانی ارتعاش اندر سے نکل کر فضا میں مرتسم ہوگیا ۔

میں نے اپنے بیگ سے قلم اور کاغذ نکالا ۔ میں نے چاہا کہ اس ربانی تجربہ کو انسانی الفاظ میں لکھوں ۔ مگر پھر میں نے لکھنے کا خیال چھوڑ دیا ۔ میں نے سوچا کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ کثیف حقیقتوں کو سمجھنا بھی ان کے لئے مشکل ہورہا ہے ۔ پھر لطیف حقیقتوں کو آخر کون سمجھے گا ۔ یہ تو وہ حقیقتیں ہیں جو صرف آنسوؤں سے لکھی جاتی ہیں اور دل کی دھڑکنوں سے پڑھی جاتی ہیں ۔ مگر آج انسان کی سطحیت کا یہ عالم ہے کہ اس کے پاس نہ آنکھ کے آنسو ہیں اور نہ دل کی دھڑکنیں ۔ پھر کون ہے جو اس کو پڑھے اور کون ہے جس کے لئے اسے لکھا جائے ۔

جہاز سازی کی صنعت کو ترقی دینے میں روس کا خاص حصہ رہا ہے ۔ مثلاً روس نے پہلی بار کئی انجن والے جہاز (multi-engined plane) بنائے ۔ اس کا ڈیزائن سکور سکی (Sikorsky) نے تیار کیا تھا ، اور وہ پہلی بار ۱۹۱۵ میں کامیابی کے ساتھ اٹھایا گیا تھا ۔ روسی قوم کے اندر غیر معمولی امکانی صلاحیت ہے ۔ کمیونزم کے جابرانہ نظام نے اس صلاحیت کے ظہور پر روک لگا دی تھی ۔ اب امید ہے کہ روسی قوم دوبارہ ترقی کے نئے زینے طے کر سکے گی ۔

یکم اگست ۱۹۹۰ء کی شام کو ائیر وفلاٹ کی پرواز نمبر ۵۵۷ کے ذریعہ ماسکو سے دہلی کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1991 All issues

Printed page