Al-Risala · January 1991 · page 18

تاریخ کا سبق

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۱۸

انڈیا ٹوڈے (۱۵ نومبر ۱۹۹۰) نے اپنی با تصویر مفصل رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس موقع پر بہار اور یوپی میں تقریباً دو لاکھ (200,000) آدمی گرفتار کیے گئے، جب کہ ایمرجنسی کے زمانہ میں ڈیڑھ لاکھ اور کوئٹ انڈیا تحریک کے زمانہ میں صرف ساٹھ ہزار آدمی پکڑے گئے تھے۔ اس طرح کی غیر معمولی کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۳۰ اکتوبر کو بابری مسجد ڈھانے کا منصوبہ پورا نہ ہو سکا۔ ساری کوششوں کے باوجود مسجد نہیں گری، اگرچہ وی پی سنگھ کی حکومت گر گئی۔

یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ویسا ہی ایک واقعہ ہے جو ۲۰۲۰ سال پہلے کعبہ میں ابرہہ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ خدا نے اجودھیا میں مداخلت کی۔ دوبارہ "چڑیوں کا جھنڈ" ظاہر ہوا اور اس نے مخالفین کے سارے منصوبہ کو تہس نہس کر دیا۔

مزید یہ کہ مسجد محض در و دیوار کا نام نہیں۔ مسجد عالم اسلام کی چوکیدار ہے۔ آپ دنیا کا سفر کریں تو آپ دیکھیں گے کہ دوسری قوموں نے اپنی حفاظت کے لیے شہروں کے گرد حصار بنائے اور بڑے بڑے قلعے کھڑے کیے۔ مگر مسلمان جہاں بھی گئے وہاں انھوں نے مسجدیں بنائیں اور اس کے میناروں پر کھڑے ہو کر اللہ اکبر (اللہ بڑا ہے) کی حقیقت کا اعلان کیا۔

تاریخ تصدیق کرتی ہے کہ مسجد نے بار بار اپنی اس حارسانہ حیثیت کو ثابت کیا ہے۔ تیرہویں صدی عیسوی میں منگول (تاتاری) وحشی طوفان کی طرح ابھرے۔ انھوں نے سمرقند سے لے کر حلب اور بغداد تک تمام مسجدوں کو ڈھا دیا۔ مگر پچاس سال میں پورا نقشہ بدل گیا۔ چنگیز خاں اور ہلاکو کے بعد ان کے بیٹوں اور پووتوں نے اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے اپنے باپ دادا کی ڈھائی ہوئی مسجدوں کو دوبارہ اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ان کے اندر عاجزانہ سجدہ کر کے اللہ کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کیا۔

اسلام کی اس فاتحانہ تاریخ کی موجودگی میں مسلمانوں کو اندیشہ کرنے کی کیا ضرورت۔ اگر کچھ لوگ شیطان کے بہکاوے میں اگر ہلاکو کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں تو مسلمانوں کو دوبارہ اس خدائی معجزہ کا انتظار کرنا چاہیے جب کہ اسلام کی طاقت ظاہر ہو اور وہ ان کی نسلوں کو مسخر کر کے دوبارہ انھیں خدا کے دین کا معمار بنا دے۔

تخریب کے چیمپئن تعمیر کے ہیرو بن جائیں ، اور بلاشبہ خدائے ذوالجلال کے لیے ایسا کرنا کچھ مشکل نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues

Printed page