Countdown to zero
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۴
۱۵ جنوری ۱۹۹۱ کے اخبارات یہ خبر لائے کہ آج رات کو گیارہ بج کر انسٹھ منٹ (11.59) پر وہ ڈیڈ لائن ختم ہو جائے گی جو کویت سے عراقی فوج ہٹانے کے لیے اقوام متحدہ نے مقرر کی تھی۔ اس کے بعد فوراً امریکہ کو یہ حق ہو جائے گا کہ وہ عراق پر اپنی پوری طاقت کے ساتھ حملہ کر دے۔ ٹائمز آف انڈیا (۱۵ جنوری) کے ایڈیٹوریل کی سرخی تھی ـــــــــ الٹا شمار صفر پر پہنچنے والا ہے :
Countdown to zero
امریکی نیوز ایجنسی اے پی کے نمائندہ نے سعودی عرب میں اس مقام کا دورہ کیا جہاں امریکہ نے فوجی اڈہ بنایا ہے۔ یہاں انتظام کیا گیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کی حالت میں عراق کے اوپر رات دن مسلسل بمباری کی جائے تاکہ یا تو صدر صدام حسین ہتھیار ڈال دیں یا عراق کو اسٹون ایج میں پہنچا دیا جائے ۔ اے پی کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی میجر کو گلان (J. J. Coghlan) نے کہا کہ یہاں ہر آدمی اپنی گھڑی کو ہر وقت دیکھتا رہتا ہے تاکہ یہ معلوم کرے کہ ۱۵ تاریخ کو کون سادن ہے۔ ہر ایک اپنے آپ کو ارجنٹ صورت حال میں محسوس کر رہا ہے :
Everybody looks at the watch all the time to see which day the 15th is. There's a sense of urgency. جس طرح اقوام متحدہ کے ریزولیوشن ۶۷۸ (۲۹ نومبر ۱۹۹۰) کے مطابق، امریکہ نے عراق کو الٹی میٹم دیا کہ وہ ۱۵ جنوری ۱۹۹۱ تک کویت سے اپنی فوجیں ہٹالے، ورنہ اس کے اوپر حملہ کر کے اس کو برباد کر دیا جائے گا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کی ایک عمر مقرر کر دی ہے اور اعلان فرمایا ہے کہ اس متعین وقت تک لوگ اپنی اصلاح کر لیں۔ اس کے بعد دنیا کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ اور ہر ایک کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ خدا کی عدالت میں حاضر ہو کر اپنے عمل کا حساب دے۔
اگر لوگوں کو اس خدائی اعلان کا شعور ہو تو ہر آدمی ارجنبی کے احساس (sense of urgency) میں زندگی گزارنے لگے۔ ہر آدمی اپنا محاسبہ کرنے میں لگ جائے۔ ہر آدمی اپنے قول و عمل کا نگراں بن جائے۔ ہر آدمی اپنا دن اس طرح گزارے گویا کہ وہ شام تک نہیں رہے گا۔ اور شام اس طرح گزارے گویا اگلی صبح اس کے لیے آنے والی نہیں۔ لوگ قیامت کے آنے سے پہلے اپنے آپ کو قیامت میں کھڑا ہوا محسوس کرنے لگیں ۔