Countdown to zero
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۵
آج کل سب سے بڑا موضوع خلیج کا بحران ہے۔ ہر شخص عراق اور کویت کے مسئلہ پر بات کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ عراق ایک بڑا ملک ہے اور کویت اس کے مقابلہ میں بہت چھوٹا ملک۔ عراق کا رقبہ ۱۶۸۸۰۰ مربع میل ہے ۔ جب کہ کویت کا رقبہ صرف ۶۸۸۰ مربع میل۔ عراق نے اپنی تیل کی دولت کے بڑے حصہ کو فوجی مدوں میں خرچ کر کے ، لاکھ کی طاقت در فوج بنالی ہے ، دوسری طرف کویت کے پاس عملاً کوئی فوج نہیں۔ اس فرق سے فائدہ اٹھا کر عراق کے حکمراں صدام حسین نے اپنی ایک لاکھ فوج ۲ اگست ۱۹۹۰ کو کویت کے اندر داخل کر دی ۔ انھوں نے بزور کویت کو عراق میں ملا کر اعلان کر دیا کہ " کویت عراق کا ۱۹ واں صوبہ ہے "
اس کے بعد اقوام متحدہ متحرک ہوئی ۔ مختلف ملکوں نے عراق کے اس جارحانہ اقدام کی مذمت کی۔ یہاں تک کہ امریکہ کی قیادت میں پورے عراق کا فوجی محاصرہ کر لیا گیا۔ عراق کی ۹۵ فی صد آمدنی کا انحصار تیل کی فروخت پر ہے۔ مگر عراقی تیل سے بھرے ہوئے ٹینکر سمندر میں کھڑے ہو گئے، زرعی اور صنعتی پسماندگی کی وجہ سے عراق فوجی ہتھیاروں سے لے کر دوا اور غذا تک ہر چیز باہر سے منگاتا ہے ، ان کا آنا بھی بند ہو گیا۔ اب عراق کے حکمراں صدام حسین روزانہ امریکہ کے خلاف تیز و تند بیانات جاری کر رہے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا (۲۱ اگست ۱۹۹۰) کے مطابق ، صدام حسین نے اس تجویز کو نامنظور کر دیا کہ دہ کویت کی حیثیت کے بارہ میں امریکہ سے بات چیت کریں۔ انھوں نے پر جوش طور پر کہا کہ کیا کویت امریکہ کا ۵۲ واں صوبہ ہے : Is Kuwait the 52nd state of the United States? جواب کی یہی قسم ہے جس کو دھاندلی کہا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کویت اگر امریکہ کا ۵۲ واں صوبہ نہیں تو وہ عراق کا بھی ۱۹ واں صوبہ نہیں۔ صدام حسین عین اسی چیز کے لیے امریکہ کو متہم کر رہے ہیں جس میں وہ خود شدید تر انداز میں مبتلا ہیں۔
آج دنیا کے بیشتر لوگ اسی قسم کی دھاندلی کر رہے ہیں۔ کاش لوگ جانتے کہ اُسی بات کی قیمت ہے جو خدا کے یہاں قیمتی ٹہھرے۔ مومن وہ ہے جو اِن الفاظ کو آج ہی بے قیمت سمجھ لے جو کل خدا کے یہاں بے قیمت ہونے والے ہیں۔ جو آج آزادانہ طور پر اُس بات کو مان لے جس کو کل وہ مجبورانہ طور پر مانے گا، مگر اس وقت کا ماننا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔