Al-Risala · May 1991 · page 7

Countdown to zero

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۷

ہندوستان ٹائمنس (۱۸ جنوری) میں مسٹر رے (A. K. Ray) کا ایک مضمون چھپا ہے۔ مضمون نگار نے صدام حسین کے اقدام کو دیوانگی (madness) اور احمقانہ قسم کا غلط اقدام (stupid misadventure) بتایا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ صدام حسین کی عظیم فوج کے بارہ میں جو خبریں چھپی ہیں، وہ سب پروپیگنڈے کی باتیں (propaganda ploy) ہیں۔ عراقی صدر کو اپنے غلط اعمال کی بھاری قیمت دینی ہوگی : The Iraqi President will have to pay a terribly heavy price for his wrongdoings. (p. 13)

مضمون نگار کی یہ بات لفظ بلفظ درست ہے۔ صدام حسین کا اقدام بلاشبہ ہلاکت کی چھلانگ ہے۔ صدام حسین جنون عظمت (paranoia) کے مریض ہیں۔ وہ عرب لیڈر بننے کے خبط میں مبتلا ہیں۔ اسی مقصد کے لیے انھوں نے ۱۹۸۰ میں ایران پر حملہ کیا تاکہ الجیرز ٹریٹی (۱۹۷۵) کو ختم کر کے شط العرب نیز خوزستان پر قبضہ کر لیں۔ مگر اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلا کہ ایک ملین انسان مارے گئے ۔ بے شمار لوگ زخمی ہوئے۔ عراق کے اوپر ۸۲ بلین ڈالر کا قرض ہو گیا۔ کویت پر حملہ (۲ اگست ۱۹۹۰) کے وقت ہر عراقی باشندہ ۴۸۲ ڈالر کا مقروض تھا۔ وغیرہ آٹھ سالہ جنگ میں صدام حسین ایران کو مغلوب نہیں کر سکے تھے مگر اپنے مجنونانہ جوش کی بنا پر انھوں نے اس سے سبق نہیں لیا۔ اور دوبارہ ناقابل فہم حماقت کے تحت عالمی سپر پاور (امریکہ) سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے :۔

اس وقت ساری دنیا کے مسلم عوام جذباتی طور پر صدام حسین کی حمایت کر رہے ہیں۔ صدام حسین آج مسلم دنیا کے ہیرو ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے عام مسلمان بھی اسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہیں جس میں صدام حسین مبتلا ہیں۔ وہ اپنے جنون عظمت کی تسکین کے لیے صدام کے حامی بن گئے ہیں۔ حقیقی اسلام آدمی کو متواضع بناتا ہے مگر خود ساختہ اسلام آدمی کی انا کو جگا کر اس کو جنون عظمت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہی موجودہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اپنی اس کمزوری کی بنا پر وہ حقیقت پسندی سے دور ہو گئے ہیں۔ وہ ہر اس آدمی کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں جو بڑے بڑے الفاظ بولے۔ خواہ عالم واقعہ میں ان الفاظ کی کوئی قیمت نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page