Al-Risala · May 1991 · page 8

Countdown to zero

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۸

خلیج کی جنگ میں پہلی بار جدید وار فیئر کی وہ صلاحیت سامنے آئی ہے جس کو عین نشانہ پر بمباری (pinpoint bombing) کہا جاتا ہے۔ الائیڈ فورس نے بغداد کی ڈیفنس بلڈنگ پر بم مارنا چاہا تو عین اسی مخصوص بلڈنگ پر بم گرا، جب کہ وہاں سیکڑوں دوسری بلڈنگیں بھی موجود تھیں۔ حتی کہ ٹی وی کے گنبد کو نشانہ بنایا تو ان کا بم صرف گنبد سے ٹکرایا اور بقیہ عمارت کو چھوڑ دیا۔ وغیرہ لندن کی ایک رپورٹ (ٹائمز آف انڈیا 19 جنوری) میں کہا گیا ہے کہ اب تک عراق پر چار ہزار ہوائی حملے کیے جا چکے ہیں۔ موصولہ تصویریں بتاتی ہیں کہ یہ حملے عین نشانہ پر لگے۔ اس انتہائی صحیح حملہ نے یہاں فوجی لوگوں کے اندر تموج کی کیفیت پیدا کر دی ہے :

At least four of these 4,000 air sorties yielded pictures of the sequence of highly accurate attacks that thrilled the military community, heralding a new era in warfare. عین نشانہ پر بم کا گرنا ایک بے حد پیچیدہ عمل ہے۔ یہ ابھی تک ایک فوجی راز ہے۔ سادہ طور پر اس کا نظام یہ ہے کہ پہلے سٹیلائٹ کے ذریعہ مطلوبہ مقام کا فوٹو لیا جاتا ہے۔ پھر زیر نشانہ عمارت کی تصویر کو ہوائی جہاز میں لگے ہوئے کمپیوٹر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ جہاز فضا میں آڑ کر لیز ر شعاعوں کے ذریعہ مذکورہ مقام کو معلوم کرتا ہے۔ کمپیوٹر کے اندر فیڈ کی ہوئی تصویر جب نشانہ کی تصویر سے مطابقت کرتی ہے تو کمپیوٹر مشین کو متحرک کرتا ہے اور بم اس تصویری نشانہ پر جا گرتا ہے۔ یہ انتہائی پیچیدہ اور تفصیلی عمل صرف منٹوں کے اندر انجام پاتا ہے۔ فوجی لوگ جب اس قسم کے واقعات کو دیکھتے ہیں تو ان کے اندر جدید ٹکنالوجی کے بارہ میں تھرل (تموج) کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ حالانکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اُس خدا کی قدرت پر تھرل کی کیفیت پیدا ہو جس نے کائنات میں اس قسم کے حیرت انگیز امکانات رکھے اور وہ انسانی ذہن بنایا جو ان امکانات کو استعمال کر کے ایسے کارنامے انجام دے سکے۔

کیسی عجیب بات ہے کہ وہ عجائب (marvels) جو خالق کی یاد دلانے والے تھے، ان سے انسان صرف مخلوق کی یاد کی غذا حاصل کر رہا ہے۔ ان واقعات سے اگر صحیح سبق لیا جائے تو انسانی دنیا میں ایک حیرت ناک انقلاب برپا ہو جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page