Countdown to zero
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۱۱
خلیج کی جنگ میں امریکہ کی زیر قیادت جو ملٹی نیشنل فورس“ بنی ہے ، اس میں برطانیہ بھی شامل ہے۔ برطانیہ کے فوجی پائلٹ ٹارنیڈو (Tornado) نامی جہاز کے ذریعہ عراق پر حملے کر رہے ہیں۔ کچھ برطانی پائلٹوں نے اے پی کے نمائندہ کو اپنے جنگی تجربات بتائے۔
اسکواڈرن لیڈر میٹرمیسن (Pablo Mason) نے کہا کہ جب ہم دشمن کے اوپر بمباری کرنے کے لیے اڑتے ہیں تو دشمن کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ہر وقت یہ اندیشہ بھی رہتا ہے کہ ہم خود کسی متوقع یا غیر متوقع حادثہ میں تباہ ہو سکتے ہیں۔ اس وقت سارا معاملہ صرف سکنڈوں کا ہوتا ہے۔
ٹائمس آف انڈیا (۲۲ جنوری ۱۹۹۱) کی رپورٹ کے مطابق، پائلٹ میسن نے کہا کہ جنگ کے حالات میں ہمارے اندر مسلسل یہ شعور موجود ہوتا ہے کہ چند منٹوں میں وہ لمحہ آسکتا ہے کہ میں دنیا میں نہ رہوں : There is a constant awareness that in a few seconds' time you may not exist. (p. 7)
یہ احساس یا شعور جو ایک فوجی پائلٹ کے اندر جنگی حالات کے درمیان ہوتا ہے، وہی مومن کی مستقل زندگی ہے۔ مومن موجودہ دنیا کی زندگی کو امتحان سمجھتا ہے ۔ خدا اس کو دنیا میں پیدا کر کے ہر لمحہ اس کی نگرانی کر رہا ہے ، جیسے ہی خدا کی طرف سے مقرر کی ہوئی مدت پوری ہوگی، فوراً موت کا فرشتہ آجائے گا تاکہ اس کی روح قبض کرلے اور اس کو دنیا سے نکال کر آخرت کے عالم میں پہنچادے۔ جس آدمی کو یہ احساس ہو کہ اگلے سکنڈ میری موت آسکتی ہے ، وہ بے حد چو کنا ہو جائے گا۔ ہر لمحہ کو وہ اپنے لیے آخری لمحہ سمجھے گا۔ وہ جینے سے زیادہ مرنے کو یاد کرے گا۔ وہ آج سے زیادہ کل کی فکر کرے گا۔ وہ آخری حد تک یہ کوشش کرے گا کہ دنیا کے ذریعہ آخرت کو کمائے نہ کہ دنیا کے ذریعہ دنیا کو۔ کیوں کہ دنیا بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔ یہ صرف آخرت ہے جو اگلے لمحہ کے بعد اس کے لیے باقی رہے گی ۔
”میں اگلے لمحہ نہ رہوں گا “ یہ احساس آدمی کے لیے حال کے مقابلہ میں مستقبل کو زیادہ اہم بنا دیتا ہے۔ اس کی ساری توجہ موجودہ کے مقابلہ میں آئندہ کی طرف لگ جاتی ہے۔ وہ دنیا پرستی کو چھوڑ کر آخرت پسند انسان بن جاتا ہے۔