Countdown to zero
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۱۰
ٹائم (۱۵ - ۲۱ جنوری) "گلف اسپیشل" کے طور پر شائع کیا گیا تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ امریکہ اور عراق دونوں اپنی آخری حد پر جا چکے ہیں، اور بظاہر اب دونوں فریق جنگ کے لیے تیار ہیں، کیونکہ دونوں میں سے کوئی بھی اس مفروضہ بدنامی کو اپنے اوپر لینا نہیں چاہتا کہ اس نے دوسرے کے آگے ہتھیار ڈال دیے (۹-۱۰) ٹائم نے لکھا تھا کہ صدام حسین اگر کویت سے اپنی فوجیں غیر مشروط طور پر واپس باللیں، تو یہ ان کے لیے آخری بہترین انتخاب (choice) ہوگا۔ کویت یہ اعلان کر چکا ہے کہ فوجوں کی واپسی کے بعد وہ عراق کی شکایت پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ حتیٰ کہ صدام حسین کے سابقہ مطالبے کے مطابق، عالمی امن کانفرنس بلانے کا امکان بھی موجود ہے۔
ٹائم کے مطابق، خود امریکہ نے کھلے طور پر یہ وعدہ کیا تھا کہ صدام حسین اگر کویت سے اپنی فوجیں واپس بلالیں تو صدام مخالف اتحاد اس کے بعد عراق پر حملہ نہیں کرے گا۔ مزید یہ کہ جارج بش نے اس بات کا بھی اشارہ دیا تھا کہ عراق اپنے سرحدی جھگڑوں کے بارے میں کویت سے بات چیت کر سکے گا، اور غالباً فلسطین کے مسئلہ پر ایک انٹرنیشنل کانفرنس بھی منعقد کر سکے گا (صفحہ ۱۲) سوویت یونین اور فرانس وغیرہ بھی یہ کہہ چکے تھے کہ صدام حسین اگر کویت سے اپنی فوجیں ہٹالیں تو ویسٹ ایشیا کے تمام مسائل کے مجموعی حل (package deal) کے بارے میں اقوام متحدہ کے تحت کانفرنس کی جائے گی اور تمام مسائل کو حل کیا جائے گا۔ ٹائم نے یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈال کر اس کو راضی کیا جائے گا کہ وہ ویسٹ بنک اور غازہ پٹی کو فلسطینیوں کے لیے خالی کر دے تاکہ وہ وہاں اپنی اسٹیٹ بنا سکیں (صفحہ ۱۴)
مگر صدام حسین نے ان تمام تجویزوں کو رد کر دیا۔ یہاں تک کہ جنگ شروع ہو گئی۔ اب مزید کچھ پانا تو درکنار، یہ یقینی ہے کہ صدام حسین کے پاس جو کچھ ہے، اس کو بھی وہ کھو دیں گے۔ اس دنیا میں بہترین عقلمندی یہ ہے کہ آدمی زیادہ کا مطالبہ کرے مگر وہ کم پر راضی ہو جائے۔ ٹکراؤ کے بغیر فریق ثانی جو کچھ دے رہا ہے، اس پر راضی ہو جانا مزید ترقی کار راستہ کھولتا ہے۔ اس کے برعکس آدمی اگر ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرے تو وہ حاصل شدہ چیز کو بھی ضائع کر دیتا ہے۔
جنگ سے پہلے صدام حسین کو جو کچھ مل رہا تھا، جنگ کے بعد وہ اس کو لینا چاہیں گے مگر اس وقت وہ کچھ بھی نہ پاسکیں گے۔ وقت گزر جانے کے بعد کوئی چیز کسی کو نہیں ملتی۔