Al-Risala · May 1991 · page 15

Countdown to zero

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۱۵

ہندوستان ٹائمنس (۲۶ جنوری) میں صدام حسین کے اس محل کی تفصیل چھپی ہے جو انھوں نے بغداد میں بنوایا ہے۔ اس کی سرخی یہ ہے صدام اپنے اس محل کے تہ خانہ میں ایک سال تک رہ سکتے ہیں : Saddam can live 1 year in his bunker اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بغداد کا یہ صدارتی محل ۱۲۰ فٹ گہرا ہے اور پور لوہے اور سمنٹ پر بنایا گیا ہے۔ وہ مکمل طور پر ایر کنڈیشنڈ ہے۔ اس میں نیچے سے اوپر تک لفٹ کا انتظام ہے۔ صدام حسین اس میں ایک سال تک ایٹمی حملہ سے محفوظ حالت میں رہ سکتے ہیں۔ اس میں ایک زمین دوز ذخیرہ آب سے پانی پہنچایا جاتا ہے جو محل سے ۴۰۰ میٹر فاصلہ پر واقع ہے۔ وغیرہ ایک فرنیچ انجینئر جس نے اس محل کو بنانے میں مدد دی تھی، اس نے کہا کہ جب آپ لفٹ کے ذریعہ اس زمیں دوز محل میں اتریں تو آپ ایک نہایت موٹے دروازہ سے گزر کر صدام حسین کے دفتر میں پہنچیں گے۔ صدام حسین کی اندرونی رہائش گاہ تک پہنچنے کے لیے کئی ایسے چیمبر سے گزرنا ہوتا ہے جو صرف کوڈ کے ذریعہ کھلتے ہیں۔ اس کے لیے میگنیٹک کارڈ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کے اور بہت سے خفیہ حفاظتی انتظامات ہیں جن کی تفصیل ڈیلی ٹیلی گراف نے چھاپی ہے۔

اس محل کے اندر ہر قسم کے تمام ضروری سامان کیے گئے ہیں۔ اس کے اندر ایسا کمیونی کیشن نظام ہے کہ صدام حسین اس کے اندر رہتے ہوئے تمام ملک سے اور پوری افواج سے مسلسل ربط قائم رکھ سکتے ہیں۔ وہ یہیں سے اپنی قوم کے نام ٹی وی پر پروگرام نشر کرتے ہیں۔ صدام حسین کوئی چیز اس وقت تک نہیں کھاتے جب تک کوئی دوسرا شخص ان کے سامنے اس کو چکھ نہ لے ۔ فرانسیسی انجینئر نے کہا کہ صدام حسین اس زمین دوز محل میں لمبی مدت تک رہ سکتے ہیں اور یہاں سے جنگ کی رہنمائی کر سکتے ہیں :

Saddam Hussein could survive and function from this emplacement for a long time. اس قسم کا زمیں دوز محل بنا کر " ام المحارب " میں فتح کا خواب دیکھنا صرف صدام حسین کی کم عقلی کا ثبوت ہے۔ یہ کلھیا میں گڑ پکانا ہے ۔ اور جو شخص کلھیا میں گڑ پکائے اس کا گڑھ اس عالم اسباب میں کبھی تیار نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page