Countdown to zero
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۱۶
کہ متفقہ طور پر مسلمانوں کا سب سے زیادہ مقدس مقام ہے۔ خلیج کا مسئلہ پیدا ہونے کے بعد ۲۲- ۲۵ جمادی الآخرۃ ۱۴۱۱ھ (۹- ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء) مکہ میں ایک عالمی کانفرنس ہوئی۔ اس میں سعودی عرب کے اور تمام دنیا کے علماء جمع ہوئے۔ تین دن کے غور و بحث اور مشورہ کے بعد " اعلان مکہ المکرمۃ الى الامۃ الاسلامیۃ" جاری ہوا۔ میرے سامنے اس کا وہ مستند متن ہے جو ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (۱۷ جنوری ۱۹۹۱ء) میں سات صفحات پر شائع ہوا ہے۔ اس روداد کا عنوان یہ ہے ــ عراقی فوج کے نام پیغام، صدام کی نافرمانی شرعی طور پر واجب ہے ( رسالۃ الى الجيش العراق، عصيان صدام واجب شرعی)
رپورٹ کے مطابق، علماء کی موتمر نے متفقہ طور پر صدام کے خلاف یہ پکار بلند کی کہ تم فوراً کویت سے نکل جاؤ (اخرج يا صدام حسين من الكويت۔ اخرج الآن وليس غدا) اس میں کہا گیا ہے کہ عراقی فوج پر لازم ہے کہ وہ ظالم صدام کی اس کے ظلم میں حمایت نہ کرے ( الواجب على جيش العراق الآطيع الظالم في ظلمه) علماء اسلام کی اس عالمی کانفرنس نے متفقہ طور پر ساری دنیا کے مسلمانوں کو پکارا کہ وہ صدام حسین کا ساتھ نہ دیں، وہ خلیج میں صدام حسین کے اقدام کی مذمت کریں جس کے نتیجہ میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کو خلیج میں آنے کا موقع ملا۔ اسی طرح دہلی میں بھی ہندوستانی علماء کی کانفرنس ہوئی۔ اس میں بھی وہی باتیں کہی گئیں جو مکہ کی کانفرنس میں کہی گئی تھیں۔ اصولاً میں علماء کی اس پکار سے متفق ہوں۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس پکار کے باوجود یہ ہوا کہ تقریباً ساری دنیا کے مسلمان صدام حسین کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے، کسی بھی ملک کے مسلمانوں نے ان اعلانات اور ان اپیلوں کی پروا نہیں کی۔ عراق کی فوج کے بارہ میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ صدام حسین کا ساتھ دینے کے لیے مجبور تھی۔ مگر مسلم عوام تو آزادانہ طور پر خود اپنے فیصلہ کے تحت صدام حسین کے حامی بنے ہوئے ہیں۔ مسلم علماء اور مسلم عوام کے درمیان علیحدگی کی اتنی بڑی مثال تاریخ میں کوئی اور نہیں ملتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود مسلم علماء اور مسلم رہنماؤں نے ان قوموں کے خلاف مسلم عوام کو اتنا متنفر کر رکھا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اب اس معاملہ میں غیر جذباتی رائے قائم کرنا ممکن نہیں۔ "نفرتِ مغرب" کی جو نفسیات مسلمانوں میں پیدا کی گئی ہے، اس کا نتیجہ وہی نکل سکتا تھا جو نکلا۔