Al-Risala · May 1991 · page 28

یکم فروری ۱۹۹۱

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۸

روزنامہ ہندوستان ٹائمز (۶ فروری) میں سعودی عرب کے سابق آئل منسٹر احمد زکی یمانی کا ایک بیان پڑھا۔ انھوں نے کہا کہ خلیج کی جنگ تیل کی وجہ سے ہے، انھوں نے سویڈش روزنامہ (Svenska Dagbladet) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں جس کے ہاتھ میں تیل کے ذرائع ہوں گے، وہی دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہوگی: ...in future the power which will have oil resources in its hands will be انھوں نے کہا کہ خلیج فارس چونکہ تیل کے عالمی ذخیرہ کا ۷۵ فی صد حصہ رکھتا ہے، خلیج میں امریکی غلبہ کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ اس کے ذریعہ اس قابل ہو جائے گا کہ وہ مستقبل کے بین الاقوامی حالات میں تیل کو ایٹم بم کے بدل کے طور پر استعمال کر سکے : ...because the Persian Gulf has 75 per cent of the entire resources of the مزید یہ کہ آج ہی کے اخبار میں امریکی صدر مسٹر جارج بش کا ایک بیان چھپا ہے۔ انھوں نے واشنگٹن میں کہا کہ خلیج کی جنگ امریکہ کی آخری جنگ ہوگی۔ اس کے بعد نئے عالمی نظام کی وجہ سے کوئی اور جنگ لڑنے کی ضرورت نہ رہے گی :

...the Gulf war would be America's last war. There would be no need to دور اول میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سیاسی اقتدار دیا۔ اس کے ذریعہ وہ ساری دنیا میں اسلام کا ددبہ قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ موجودہ زمانہ میں دوبارہ اللہ کی مدد سے مسلم دنیا کے نیچے تیل کا قدرتی خزانہ نکل آیا جو صنعتی دور میں سپر پاور بنانے کا ذریعہ ہے۔ مگر آج یہ حالت ہے کہ ان کے اثاثہ کے ذریعہ دوسری قوم عالمی سپر پاور بن رہی ہے اور خود مسلمانوں کے حصہ میں مغلوبیت کے سوا اور کچھ نہیں۔ خارجی مواقع کو استعمال کرنے کے لیے داخلی طاقت درکار ہے، داخلی کمزوری کے ساتھ خارجی مواقع کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ داخلی طاقت کے بغیر خارجی مواقع کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص کا جسم ہو مگر اس سے اس کی روح نکل گئی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page