یکم فروری ۱۹۹۱
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۷
مزائل میں یہ صلاحیت تھی کہ جس وقت اسکڈ اپنے لانچر سے نکل کر روانہ ہو، عین اسی وقت پیٹریٹ بھی اڑ کر تیزی سے اس کی طرف روانہ ہو، اور اسکڈ سے ٹکرا کر درمیان ہی میں اس کو ناکارہ کر دے۔ چنانچہ خلیج کی جنگ کے دوران عراق نے کئی درجحن اسکڈ مزائل استعمال کیے۔ مگر امریکی پیٹریٹ ہر بار فضا میں پہنچ کر درمیان ہی میں اس سے ٹکرا گیا اور نشانہ پر پہنچنے سے پہلے اس کو ناکارہ بنا دیا۔
نیچے کی تصویر میں دونوں مزائلوں کو عمل کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک طرف عراق سے اسکڈ مزائل روانہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف عین اسی وقت اسرائیل کے امریکی فوجی اڈہ سے پیٹریٹ مزائل اڑتا ہے اور وہ راستہ میں اسکڈ مزائل سے ٹکرا کر درمیان ہی میں اس کو برباد کر دیتا ہے۔ پیٹریٹ مزائل کے اس عمل میں مصنوعی سیارہ سے لے کر زمینی کنٹرول اسٹیشن تک نہایت پیچیدہ نظام شامل رہتا ہے۔ تاہم پیٹریٹ کی کامیابی کا خاص راز اسکڈ مزائل کی ایک کمزوری ہے۔ اسکڈ کی خود اپنی ایک کمزوری نے امریکہ کو موقع دیا کہ وہ اس کا کامیاب توڑ تیار کر سکے۔
اسکڈ جب تیزی کے ساتھ فضا میں گزرتا ہے تو وہ نہایت سخت قسم کی گرمی پیدا کرتا ہے۔ یہ گرمی اسکڈ کی کمزوری ہے۔ پیٹریٹ فضا میں اٹھ کر اسی گرمی کا پیچھا کرتا ہے۔ پیٹریٹ میں ایسا مادہ ہوتا ہے جو گرمی کی طرف کھنچے ۔ چنانچہ وہ گرمی کی رہنمائی میں اسکڈ تک پہنچ جاتا ہے اور اس سے ٹکرا کر اس کو درمیان ہی میں برباد کر دیتا ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز کی ایک کمزوری ہے۔ ہر چیز خود اپنے ساتھ اپنا ایک توڑ لیے ہوئے ہے۔ اگر آپ اس توڑ کو جان لیں تو ہر چیز کا مقابلہ نہایت کامیابی کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ ہر مخالف چیز کو خود اسی کے ہتھیار کی مدد سے شکست دے سکتے ہیں۔