Al-Risala · May 1991 · page 32

یکم فروری ۱۹۹۱

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۳۲

عراق کے حکمران صدام حسین نے ۱۹۸۰ء میں اپنی فوجیں ایران کے اندر داخل کر دیں۔ اس وقت ان کا نعرہ تھا کہ الطریق الی القدس یمر بطہران (قُدْس کاراستہ تہران سے گزرتا ہے) مگر آٹھ سال کی باہمی لڑائی کے بعد ۱۹۸۸ء میں دونوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی تو حال یہ تھا کہ قُدْس پر یہودیوں کا قبضہ بدستور باقی تھا۔ البتہ دو مسلم ملکوں کی آپس کی جنگ میں دونوں طرف کے لاکھوں آدمی مارے گئے اور کھربوں روپے کی دولت ضائع ہوگئی۔

صدام حسین نے دوسری بار اگست ۱۹۹۰ء میں کویت پر حملہ کر دیا۔ کویت ایک بے حد چھوٹا ملک تھا، وہ اپنا بچاؤ نہ کر سکا۔ چنانچہ عراق کی فوجیں اس پر قبضہ کر کے بیٹھ گئیں۔ اس جارحانہ اقدام کے متعلق بھی دوبارہ صدام حسین کا نعرہ ہے کہ الطریق الی القدس يمر بالکویت (قُدْس کاراستہ کویت سے گزرتا ہے) دونوں بار مسلم دنیا کے بہت سے لوگ اس نعرہ کے فریب میں آگئے۔ انھوں نے صدام حسین کی حمایت کرنا شروع کر دیا۔ انھوں نے یقین کر لیا کہ صدام حسین تہران اور کویت سے ہو کر یروشلم میں داخل ہونا چاہتا ہے تا کہ قُدْس (بیت المقدس) کو آزاد کرائے۔ ان مسلمانوں میں سے کسی نے یہ نہ سوچا کہ صدام حسین کو اگر یروشلم پر قبضہ کرنا تھا تو ان کو بغداد سے سیدھے یروشلم کی طرف مارچ کرنا چاہیے تھا، انھوں نے اس مقصد کے لیے یہ ٹیڑھا راستہ کیوں اختیار کیا کہ پہلے تہران اور کویت پر قبضہ کرو، اس کے بعد یروشلم کی طرف اقدام کرو۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی بے شعوری ہے جس کی وجہ سے وہ جھوٹے نعروں کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ اگر مسلمان ایک باشعور قوم ہوتے تو وہ صدام حسین کے جارحانہ اقدام کی کبھی حمایت نہ کرتے، مگر مسلمانوں کی بے شعوری کی وجہ سے صدام حسین کو مسلم دنیا میں اپنے بہت سے حامی مل گئے۔ اسی بے شعوری کی بنا پر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ صرف الفاظ کو جانتے ہیں، معانی کی انھیں خبر نہیں۔ وہ باتوں کو صرف ظاہری سطح پر دیکھتے ہیں، وہ باتوں کو اندرونی سطح پر دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ وہ اپنے جذبات سے واقف ہیں مگر خارجی دنیا کے حقائق کا انھیں پتہ نہیں۔ وہ سچے اقدام اور جھوٹے اقدام کا فرق نہیں جانتے۔ اور جو لوگ سچے اقدام اور جھوٹے اقدام کا فرق نہ جانیں، ان کو کوئی بھی چیز بربادی کی چھلانگ سے بچانے والی نہیں۔

اس دنیا میں "فرق" کو جاننا سب سے بڑی دانائی ہے۔ اور فرق کو نہ جاننا سب سے بڑی نادانی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page