یکم فروری ۱۹۹۱
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۲
"المجلة" ایک عربی ہفت روزہ ہے۔ وہ جدہ میں چھپتا ہے اور لندن سے شائع کیا جاتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۲ فروری ۱۹۹۱ میں کویت کے ایک وزیر ڈاکٹر عبد الرحمن العوضی کا انٹرویو شائع ہوا ہے۔ اس انٹرویو کے سوالات وجوابات کا تعلق خلیج کی موجودہ صورت حال سے ہے۔
المجلہ کے نمائندہ نے دکتور العوضی سے پوچھا کہ آئندہ کویت کا مستقبل داخلی اعتبار سے کیا ہوگا (كيف سيكون مستقبل الكويت داخلیّا) دکتور العوضی نے اس کا جو جواب دیا، اس کا ایک جز یہ تھا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم ماضی کے تجربہ سے سبق سیکھیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اور شاید سب سے بڑی غلطی جس میں ہم مبتلا ہوئے، وہ یہ تھی کہ ہم نے ایسے شخص کے اوپر اعتماد کیا جو اس کا مستحق نہ تھا ( ینبغی أن نتعلم من دروسنا السابقة ونستفيد منها - ولعلّ إهم خطأ وقعنا فيه هو وضع ثقتنا فى مــــن لا يستحقها) صفحہ ۳۷ کویت نے عراقی صدر کو اپنا عرب بھائی سمجھ کر ان کے اوپر اعتماد کیا اور بلینوں ڈالر کے ذریعہ ان کی مدد کی، مگر عراقی صدر نے اپنے آپ کو طاقتور بنا کر خود اپنے محسن کے اوپر حملہ کر دیا۔ چنانچہ اب کویت کے ذمہ دار اعلان کر رہے ہیں عراقی صدر بھروسہ قابل نہیں۔
مگر عجیب بات ہے کہ عین اسی وقت ساری دنیا کے مسلمانوں نے عراقی صدر کی تقریروں سے متاثر ہو کر دوبارہ ان کے اوپر سب سے زیادہ بھروسہ کر لیا ہے۔ وہ ان کو اپنا حمایتی اور اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں مسلم عوام حال میں وہی غلطی کر رہے ہیں جو کویتی حکمرانوں نے ماضی میں کی۔ دونوں نے عراقی صدر کی باتوں کی بنیاد پر ان کے بارہ میں اپنی راے قائم کی۔ حالانکہ اصل قابل لحاظ چیز کردار ہے نہ کہ بات۔ امام مالک نے قاسم بن محمد تابعی کے بارہ میں نقل کیا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے : (أدركتُ الناس وما يعجبُون بالقول - میں نے ایسے لوگ (صحابہ) دیکھے ہیں جو قول کو کچھ بھی إنما يُنظر إلى عمله ولا يُنظَرُ إلى اہمیت نہیں دیتے تھے۔ در اصل آدمی کا عمل ا قوله ) ( موطا ، صفحہ ۷۰۲) دیکھا جائے گا، اس کا قول نہیں دیکھا جائے گا۔
کتنا زیادہ فرق ہے صحابہ کی سوچ میں اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سوچ میں۔