We talk on principle, but we act interest.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۸
ٹائمز آف انڈیا (۸ جنوری) کے ایڈیٹوریل کی سرخی تھی: پیکس امریکانا (Pax Americana) یعنی امریکی امن۔ میڈیٹیرینین کے علاقہ میں رومیوں نے وسیع سلطنت قائم کی جو ۲۷ ق م سے لے کر ۱۸۰ء تک رہی۔ اس زمانہ میں رومی اقتدار کے تحت اس علاقہ میں جو سیاسی امن قائم ہوا اس کو انہوں نے پیکس رومانا سے تعبیر کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی سیاست میں امریکہ کو غالب کردار ادا کرنے کا جو موقع ملا اس کی بنا پر اس عہد کو پیکس امریکانا سے تعبیر کیا جانے لگا۔ مگر اس دور میں امریکہ کے علاوہ سوویت یونین کو بھی سپر پاور کی حیثیت حاصل رہی۔ اس بنا پر پیکس امریکانا کا لقب صرف جزئی طور پر ہی امریکہ پر صادق آتا تھا۔ اب حالات مکمل طور پر بدل گئے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا نے اپنے مذکورہ ایڈیٹوریل میں بالکل درست طور پر لکھا ہے کہ دو طاقتی دنیا کا نظام جس کو سرد جنگ نے پیدا کیا تھا وہ نومبر ۱۹۸۹ میں دیوارِ برلن کے ساتھ ڈھ گیا۔ اس کے کھنڈر سے ایک واحد طاقتی دنیا کا نظام ابھرنا شروع ہو گیا تھا۔ خلیجی جنگ نے اس عمل کو حیران کن رفتار کے ساتھ تیز کر دیا ہے :
The bi-polar world order created by the Cold War collapsed along with the Berlin Wall in November 1989. A more and more uni-polar world began to emerge from the rubble. That process has now accelerated with dizzying speed. (p. 1)
آج ٹائمز آف انڈیا (۷ فروری) میں فرانسیسی مورخ (Amaury de Riencourt) کا انٹرویو چھپا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صدیوں کے تاریخی عمل اور امریکہ کی غیر معمولی مادی ترقی جس طرف جا رہی ہے وہ یہی ہے کہ آنے والا دور پیکس امریکانا کا دور ہو۔ یہ امریکہ کا شاہانہ مقدر ہے کہ وہ بیسویں صدی کا روم بنے : It is America's imperial destiny to be the Rome of the twentieth cen- tury (p. 12). یہ بات بطور واقعہ درست ہے۔ اب مسلمانوں کے لیے دانش مندی یہ ہے کہ وہ امریکہ کی سیاسی چٹان سے اپنا سر نہ ٹکرائیں۔ بلکہ اسلام کے دعوتی مشن کو لے کر اٹھیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو عین ممکن ہے کہ دورِ ِ امریکہ مستقبل میں دربارِ اسلام بن جائے۔ کوئی بھی غلبہ دعوتی مواقع کو ختم نہیں کرتا۔ اور جہاں دعوتی مواقع موجود ہوں وہاں گویا وہ سب کچھ موجود ہے جس کی اسلام کو ضرورت ہے۔