We talk on principle, but we act interest.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۳۹
ہندوستان ٹائمز (۸ فروری) میں ایک خوش کن خبر شائع ہوئی ہے ۔ واشنگٹن کی ڈیٹ لائن کے ساتھ چھپنے والی اس خبر کا عنوان ہے۔ خلیج کی جنگ کے بعد کسی بھی منصوبہ میں انڈیا اپنا رول چاہتا ہے: India wants a role in post-war plan خبر میں بتایا گیا ہے کہ نئی دہلی کی ہدایات کے تحت امریکہ کے ہندستانی سفیر مسٹر عابد حسین امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ (دفار پولیٹیکل افیرس) مسٹر رابرٹ کیمٹ (Robert Kimmit) سے ملے۔ ہندستانی سفیر نے امریکی حکومت سے یہ درخواست کی کہ جنگ کے بعد ویسٹ ایشیا کی بحالی کا جو نقشہ بنایا جائے، اس میں انڈیا کی رائے کو بھی شریک کیا جائے ۔ علاقہ کی تعمیرِ نو کے پراسس میں انڈیا کا بھی بطور ایک پارٹنر شامل کیا جانا ضروری ہے۔
ہندستانی سفیر نے مسٹر کیمٹ سے کہا کہ انڈیا جیسا ایک ملک اس علاقہ میں نہایت اہم رول ادا کر سکتا ہے۔ اور امریکہ کو چاہئے کہ وہ انڈیا کی ترقی میں مزید بہت زیادہ دلچسپی لے : A country like India in the subcontinent has to play an extremely important role, and the US have got to take a lot more interest in India's development. (p. 12)
موجودہ حالت میں یہ درخواست محض نادانی کی ایک خواہش ہے جو کبھی پوری ہونے والی نہیں۔ اس اخبار کے صفحہ اول پر یہ خبر ہے کہ خلیج کے لئے جانے اور آنے والے امریکی ایرفورس کے ٹرانسپورٹ جہازوں کو بمبئی اور مدراس کے ایرپورٹ پر دوبارہ تیل لینے کی سہولت (refuelling facility) دی جا رہی تھی۔ لیکن ہندوستان کے سیاسی لیڈروں نے اس پر شور مچایا۔ چنانچہ حکومت ہند نے اس سہولت کو بند کر دیا ۔ جس عمل میں انڈیا قیمتِ تیل دینے کے بقذر بھی شریک نہ ہو، وہ اس عمل کے بعد اس کے انجام کی تشکیل میں کیسے شریک ہو سکتا ہے۔
اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ جو لوگ جوکھم کو برداشت کریں، وہی جوکھم کے بعد آنے والے نتیجہ کے مالک ہوں ۔ موجودہ دنیا میں یہ ناممکن ہے کہ جو کھم کوئی اور اٹھائے اور اس کا نتیجہ کسی دوسرے کو مل جائے ۔ اس قسم کی خوش فہمی صرف ایک سادہ لوح انسان کے ذہن میں جگہ پا سکتی ہے، اس کے باہر ایسی خوش فہمی کا کوئی وجود نہیں ۔