Al-Risala · May 1991 · page 48

Iraq agrees to unconditional pull-out

الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۴۸

المجلة (۲۷ فروری ۱۹۹۱) میں ڈاکٹر علی الدین ہلال (مدیر مرکز الدراسات السیاسیة بجامعة القاھرۃ) کا مضمون چھپا ہے۔ یہ خلیجی بحران کے اسباب کے بارے میں ہے ۔ اس کا عنوان ہے : فلنتبر الاسباب ونحن في قلب العاصفۃ ۔

وہ لکھتے ہیں کہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم معاملات کو محض ان کے ظاہری پہلو کے اعتبار سے دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں ۔ اور جڑ کی اور گہرائی کی باتوں پر غور نہیں کرتے ۔ ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس عقل سے مسلح کریں جو ہم کو اس قابل بنائے کہ ہم خلیج اور اس کی قوموں کے مسائل کا مقابلہ زیادہ گہرے انداز میں کر سکیں (اننا ناخذ الامور عادة بمظاھرھا ولانبحث فی الجذور والاعماق ........ والمطلوب منا جميعا ان نتسلّح بالعقل الذی یمکننا من مواجھۃ مشاكل المنطقة وشعوبھا بشكل جوھری و جذری (صفحہ ۲۳)

اصولاً یہ بات نہایت اہم ہے۔ مگر موجودہ شکل میں وہ بالکل بے فائدہ ہے۔ قوم کے اندر مطلوبہ عقل پیدا کرنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ تنقید کی کھلی آزادی ہو۔ تنقید سے میری مراد المجد کے مذکورہ مضمون جیسی عمومی تنقید نہیں بلکہ متعین اور مشخص تنقید ہے ۔ اور موجودہ مسلمانوں کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض چیز یہی تنقید ہے ۔ جب تک متعین اور مشخص تنقید کے بارہ میں مسلمانوں کی غیر ضروری حساسیت کو ختم نہ کیا جائے ، ان کے اندر عقلی بالیدگی پیدا ہونا ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر خلیج کے معاملہ کو لیجئے ۔ اس کی جڑ یہ ہے کہ آج پوری مسلم دنیا میں یہ مزاج بن گیا ہے کہ ظالمانہ کارروائی کی زد غیر پر پڑے تو اس کی مذمت نہیں کی جاتی ۔ کسی ظالمانہ کارروائی کی مذمت صرف اس وقت کی جاتی ہے جب کہ اس کی زد خود اپنے آپ پر پڑرہی ہو۔ صدام حسین نے ۷ستمبر ۱۹۸۰ کو ایران پر بمباری کی تو عرب حلقہ نے اس کی مذمت نہیں کی ۔ اسی صدام نے ۲ اگست ۱۹۹۰ کو کویت پر حملہ کیا تو پورا عرب حلقہ چیخ اٹھا۔ یہ مزاج برائی کی جڑ ہے ۔ لیکن اگر اس برائی کی کھلی نشاندہی کی جائے تو مقدس ترین لوگ بھی اس کو سننے کے لئے تیار نہ ہوں گے ۔

اس مزاج کو باقی رکھتے ہوئے تسلح بالعقل کی بات کرنا محض ایک خوش خیالی ہے۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1991 All issues

Printed page