Iraq agrees to unconditional pull-out
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۴۹
ٹائم میگزین کا شمارہ جس میں ۴ مارچ ۱۹۹۱ کی تاریخ چھپی ہوئی ہے، وہ پیشگی طور پر مجھے آج ملا۔ اس شمارہ میں حکومت روس کے ایڈوائزر پرائماتوف (Yevgeni Primakov) کی ایک تازہ تحریر شائع ہوئی ہے جو صدام حسین اور خلیج کے مسئلے سے متعلق ہے۔
مسٹر پرائماتوف لکھتے ہیں کہ میں صدام حسین سے بار بار ملا ہوں۔ سب سے پہلے صدام حسین سے میری ملاقات ۱۹۶۹ میں ہوئی جب کہ میں پراودا کا رپورٹرنٹ تھا۔ اس وقت صدام حسین بعث پارٹی کے لیڈر تھے، مگر ابھی وہ عراق کے صدر نہیں بنے تھے۔ صدام حسین کے صدر بننے کے بعد ان سے میری بار بار ملاقاتیں ہوئیں، بغداد میں بھی اور ماسکو میں بھی۔ حتی کہ میرے اور ان کے درمیان بے تکلفانہ تعلقات ہوگئے، فروری ۱۹۹۱ میں وہ میخائیل گورباچوف کے نمائندہ کی حیثیت سے کئی بار صدام حسین سے ملے اور عراقی صدر کو کویت سے اپنی فوجیں واپس کرنے کے معاملہ میں بات کی۔
مسٹر پرائماتوف کہتے ہیں کہ صدام حسین سے قریبی تعلق کے بعد میں نے جانا کہ صدام حسین کو پوری بات سے واقفیت نہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے موافق رپورٹوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، مثال کے طور پر، عرب دنیا میں عراق کی حمایت کے بارہ میں، مغرب میں جنگ کے مخالف مظاہروں کے بارہ میں، عراق کے خلاف اتحادی ملکوں میں اندرونی اختلاف کے بارہ میں۔ اور جہاں تک بڑی خبروں کا تعلق ہے تو ایسی خبر لانے والے کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
I realized that it was possible Saddam did not have complete informa- tion. He gave priority to positive reports: for example, about the support Iraq was receiving in the Arab World, about the antiwar demonstrations in the West, about the first hints of differences between the allies in the anti-Iraqi coalition. And as for bad news, the bearer could pay a high price. یہی کمزوری تمام مسلم رہنماؤں میں پائی جاتی ہے، حتی کہ مسلمانوں کے مقدس اکابر میں بھی۔ یہ لوگ اپنے فرضی تخیلات میں گم رہتے ہیں۔ ان کو ایسے ہی افراد پسند آتے ہیں جو ان کے مفروضات کی تصدیق کریں۔ جو شخص ان سے اختلافی بات کرے وہ ان کی نظر میں فوراً مبغوض ہو جاتا ہے۔ چنانچہ وہ حقیقت حال سے بالکل بے خبر رہتے ہیں۔ وہ ایسے غیر پختہ اقدامات کرتے ہیں جن کا نتیجہ بربادی کے سوا کسی اور صورت میں نکلنے والا نہ ہو۔